مقامی وقت کے مطابق گیارہ جون کی صبح ایران کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے بعد امریکی فوج نے ایک بیان جاری کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس نے ایران کے خلاف نام نہاد "سیلف ڈیفنس" کے تحت کارروائی کی ہے۔ایران کی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام اقسام کے بحری جہازوں، بشمول تیل بردار جہازوں اور تجارتی جہازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے بھی اسی دن اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو امریکہ کی جانب سے فائربندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں کے باعث آئندہ نوٹس تک بند کر دیا گیا ہے۔
ادھر مشرقی امریکی وقت کے مطابق 10 جون کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ حملہ کریں گے،جوکہ "بہت شدید" ہوگا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ "بامعنی اور موثر" معاہدے تک پہنچنے کی امید رکھتے ہیں، تاہم انھوں نے ایران پر "تاخیر اور تعطل جاری رکھنے" کا الزام لگایا۔ امریکی صدر ٹرمپ کی "ایرانی بجلی گھروں اور پلوں کو بم سے اڑانے" کی نئی دھمکی کے جواب میں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 10 تاریخ کو کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ اور دھمکیوں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کرے گا۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابو الفضل شکارچی نے اسی روز ٹرمپ کی جانب سے ایرانی انفراسٹرکچر پر حملہ کرنے کے بیان کے جواب میں کہا کہ ایران امریکہ کی طرف سے آنے والے ہر خطرے کا جواب "پہلے سے کہیں سخت، طاقتور اور تباہ کن انداز میں دے گا۔"
ایرانی حکام نے 10 جون کو امریکی بحری ناکہ بندی اور فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک ہونے والے مجموعی بحری نقصانات کے اعداد و شمار بھی جاری کیے، جن کے مطابق ان واقعات سے مجموعی طور پر 360 بحری جہاز متاثر ہوئے، جن میں سے 253 یا تو ڈوب گئے یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ 54 بحری اہلکار ہلاک، 66 زخمی اور 7 لاپتہ ہوئے اوردیگر 28 کو اغوا کیا گیا۔ اس کے علاوہ بحری آپریشنز سے متعلق 4 عمارتوں، جہازوں کی آمدورفت کے انتظام و نگرانی کے 4 مراکز اور مواصلاتی رابطوں کے 8 آلات کو بھی نقصان پہنچا۔



