مقامی وقت کے مطابق 10 جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر ایک کھلا اجلاس منعقد کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے متنبہ کیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بدستور بگڑ رہی ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی حل کو فروغ دیں اور ثالثی اور بات چیت کے ذریعے دیرپا امن قائم کریں۔
لبنان کی صورتحال کے حوالے سے گوتریس نے کہا کہ رواں سال مارچ سے لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کرتے ہوئے جامع فائربندی کے ذریعے بلیو لائن کے دونوں جانب کے لوگوں کی مشکلات کو دورکیا جائے۔ اسرائیل فلسطین تنازعہ پر گفتگو کرتے ہوئے گوتریس کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع تشویشناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی کو بدستور شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی کو فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ رہنا چاہیے اور آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ یہ ہے کہ قبضہ ختم کر کے "دو ریاستی حل" کو نافذ کیا جائے۔ گوتریس نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف جہازرانی کے حقوق اور آزادی پر پابندیاں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں اور سپلائی چین میں خلل ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے فائربندی کی پاسداری کرنے، بحری آمدورفت کی آزادی کو بحال کرنے اور جوہری مسئلے پر مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہو۔



