مقامی وقت کے مطابق 10 جون کو کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے دوران اپنی "عارضی معطلی" کی خبروں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معطل نہیں کیا گیا ہے اور یہ محض ایک رکن پارلیمان کی جانب سے ہاؤس انکوائری کمیٹی کو دی گئی درخواست تھی۔ انہوں نےواضح کیا کہ مذکورہ کمیٹی کے پاس جمہوریہ کے صدر کو معطل کرنے کا کوئی آئینی اختیار نہیں ہے، اور صدر کی معطلی کا فیصلہ سینیٹ کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کارروائی کولمبیا کے قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں معاملہ سپریم کورٹ تک بھی جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کولمبیا کے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر انتہائی دائیں بازو کے امیدوار کی کھلے عام حمایت کے بیان پر صدر پیٹرو نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ کولمبیا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت بند کریں۔ پیٹرو نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کا فیصلہ کولمبیا کے عوام کو خود کرنا چاہیے، اور یہ کہ ملکی آئین صدارتی انتخابات میں غیر ملکی مالی معاونت یا بیرونی حمایت کی اجازت نہیں دیتا۔
کولمبیا کے آئین کے تحت صدر کی مدتِ صدارت چار سال ہوتی ہے اور مسلسل دوسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ہے، لہذا پیٹرو موجودہ انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔



