مقامی وقت کے مطابق 18 جون کو، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران نے الیکٹرانک ذرائع سے ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیےہیں جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس عمل میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے اس معاہدے پر اعلیٰ ترین سطح پر دستخط اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں فریق اپنے تنازعات کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔وزیر اعظم پاکستان کے مطابق امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گی، اور ابتدائی مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولے گا اور امریکہ ایران کے خلاف سمندری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان، قطر کے تعاون سے 19 جون کو سوئٹزر لینڈ میں اس تاریخی مفاہمتی یادداشت کے لیے ایک باضابطہ تقریب منعقد کرے گا۔ اس موقع پر دونوں فریقوں کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی کیا جائے گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یادداشت کے نفاذ کے بعد، 60 روز کے اندر جوہری مسئلے اور پابندیوں سے متعلق امور پر باقاعدہ مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔



