• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین کا اپنے  خلائی سٹیشن میں چاول اگانے کا عمل

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-06-18

    24مئی 2026 کو چین کے شمال مغربی علاقے میں جیوچھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے، لانگ مارچ-2 ایف کیریئر راکٹ کے ذریعے  شینزو-23 کا عملہ بردار خلا ئی جہاز خلا میں روانہ کیا گیا۔ (شنہوا۔ لیان جین)

    24مئی 2026 کو چین کے شمال مغربی علاقے میں جیوچھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے، لانگ مارچ-2 ایف کیریئر راکٹ کے ذریعے شینزو-23 کا عملہ بردار خلا ئی جہاز خلا میں روانہ کیا گیا۔ (شنہوا۔ لیان جین)

    18 جون2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)زمین سے 400 کلومیٹر کی بلندی پر موجود چین کے خلائی سٹیشن میں، شینزو-23 کے خلا باز چاول کی کاشت کے تجربے پر کام کر رہے ہیں جو بیج سے بیج کے دو دورانیوں تک جاری رہنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مائکروویو اوون سائز کے ایک تجرباتی ماڈیول کے اندر پہلے ہی چاول کے بیج اگ چکے ہیں اور پودے بڑھ رہے ہیں۔

    چائنا سائنس ڈیلی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس تجربے کا مقصد مائیکرو گریویٹی کے ماحول میں چاول کے جینیاتی استحکام اور تجدیدی صلاحیت کی جانچ کرنا ہے ۔یہ تجربہ زمین سے باہر کے ماحول میں خوراک کی پیداوار کی ٹیکنالوجی کی طرف ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے، جو خلائے بسیط کے مستقبل کے مشنز، بشمول چاند اور مریخ کے مشنز کے لیے اناج کی پائیدار پیداوار کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    مائیکرو گریویٹی میں افزائشِ نسل

    زمین پر موجود تمام زندگی اپنے کشش ثقل کے اثرات کے تحت ترقی پذیر ہوئی ہے اور اس ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ جب انسان نے خلا کی دریافت کا عمل شروع کیا تو ایک اہم سوال سامنے آیا کہ کیا مائیکرو گریویٹی میں پودے بیج کی روئیدگی سے لے کر تولید تک اپنا " لائف سائیکل"مکمل کر سکیں گے ؟

    یہ تحقیق خلا میں خوراک کی فراہمی کے لیے پودوں کی کاشت کی ممکنہ صلاحیت کا اندازہ لگانے کے لیے بہت اہم ہے۔چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے مالیکیولر پلانٹ سائنس کے سینٹر فار ایکسیلنس کی تحقیقاتی ٹیم کے رہنما جینگ حوئی چھیونگ بتاتے ہیں کہ انہوں نے 2002 میں شینزو-4 مشن کے دوران "سپیس سیل فیوژن" کا مشاہدہ کی تھا۔2006 میں، "شی جیان-8" سیٹلائٹ مشن میں توجہ ، پودوں کی پھول دینے اور زیرگی پر مرکوز کی گئی۔رئیل ٹائم مائیکروسکوپک امیجنگ کا استعمال کے ذریعے دریافت ہوا کہ خلا میں پولن، کشش ثقل پر انحصار کرنے کی بجائے فضا میں تیرتا ہے اور صرف ایک چھوٹا سا حصہ سٹگما پر گرتا ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلا میں کراس پولینیٹنگ فصلوں کے لیے زیرگی کے عمل میں مصنوعی مدد درکار ہوگی۔

    ٹیم نے ایرا بیڈوپسس اور چاول جیسے خود زیرگی کی صلاحیت والے پودوں پر توجہ دی اور 2016 میں لانچ ہونے والی تھیان گونگ -2' سپیس لیب میں ان میں پھول دینے کے وقت پر تحقیق کی۔۔ نتائج نے ظاہر کیا کہ مائیکرو گریویٹی سے پھول دینے والی جینیات کے ظاہر ہونے اور حرکت میں تاخیر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے خلا میں یہ عمل تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔

    2022 میں، چین کے خلا اسٹیشن کے وینٹیان لیب ماڈیول کا استعمال کرتے ہوئے، ٹیم نے خلا میں اگائے گئے چاول کے بیجوں کےپورے لائیف سائیکل کو مکمل کیا۔ یہ بیج زمین پر واپس لائے گئے اور تین نسلوں تک ان کی افزائش کی گئی ، جو مضبوط تولیدی صلاحیتوں کی مظہر ہے۔جینگ حوئی چھیونگ نے نشاندہی کی کہ خلا سے آئے ہوئے بیج اگنے کے دوران سیدھے اوپر کی جانب بڑھنے کے بجائے زمین پر جھک کر بڑھے ، جو کہ پودوں پر مائیکرو گریویٹی کے نمایاں اثرات کی نشاندہی کرتا ہے، جسے 'سپیس سنڈروم' کہا جاتا ہے۔

    کاشت کے دو ادوار

    خلابازوں کی تحقیق میں بنیادی چیلنج محدود جگہ ہے، جہاں تجرباتی ماڈیول کی اونچائی صرف 20 سینٹی میٹر ہے، جو پودوں کی ساخت کے انتظام کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اس مسئلے کا حل کرنے کے لیے، ٹیم نے جلد پکنے والے چاول کی کمپیکٹ اقسام کا انتخاب کیا۔

    یہ اقسام تین سے چار ماہ میں تیار ہوتی ہیں، جو عملے کی تبدیلی کے شیڈول کے مطابق ہیں اور تجربات کو شینژو-23 سے شینژو-24 مشن کی طرف منتقل کرنے کی سہولت دیتی ہیں۔اس کے علاوہ پانی اور گیس کا انتظام بھی مشکل ہے۔ مائیکروگریویٹی میں، چاول کے پتوں سے پانی کے قطرات گرنے کی بجائے تیرتے ہیں ، جس کی وجہ سے اگر جلدی جمع نہ کیا جائے تو ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ماڈیول کے بند ہونے کی وجہ سے ہوا کا توازن برقرار رکھنا بھی مشکل ہے۔

    بیج کی بوائی کے بھی منفرد چیلنجز ہیں؛ بکھرے ہوئے بیج بیٹھتے نہیں اور مٹی کے ذرات تیر سکتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے، ٹیم نے ایک پلگ ان فکسڈ پلانٹنگ ڈیوائس تیار کی جس میں پلیٹس ہیں جو بیجوں کو محفوظ کرتی ہیں۔ ٹیم نے دو قسم کے خاص چاول کے بیج تیار کیے ہیں: ایک سیٹ کبھی خلا میں نہیں گیا، جبکہ دوسرا سیٹ بیجوں کی ان نسلوں پر مشتمل ہے جو خلا میں اگائی گئی فصل کی چنائی کے بعد 2022 میں زمین پر واپس آئے اور تین نسلوں تک ان کی افزائش کی گئی ۔

    اس منصوبے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ اگر پودوں کی یادداشت ہوتی ہے تو خلا میں چنی گئی فصل کے بیجوں کی نسلیں اپنی ماحول کے مطابق بہتر موافقت کی صلاحیت دکھا سکتی ہیں۔

    اس تجربے کے دوران، چار یونٹس میں دو قسم کے بیجوں کا موازنہ کیا گیا، جن میں جنسی اور غیر جنسی تولید کا استعمال کیا گیا ۔ پہلے گروپ نے جنسی تولید کا استعمال کیا، جہاں پختہ چاول کے سپائیکلیٹس کو ایک پلگ ان ڈیوائس کے ذریعے نئے یونٹس میں منتقل کرنے کے لیے حاصل کیا گیا، جس سے خلا میں بیجوں کی تولید ممکن ہوئی۔

    دوسرے گروپ نے غیر جنسی تولید پر توجہ دی، جہاں پختگی کے بعد صرف جڑوں کے نظام کو محفوظ رکھا گیا، جس سے باقی ماندہ تنوں سے نئے پودے نکلنے کی اجازت ملی، جو راتون چاول کی ٹیکنالوجی سے متاثر تھا۔

    جیسے جیسے گروپ ترقی کرتے جا ئیں گے ، سائنسدان بیج کی کارکردگی کا مشاہدہ کریں گے اور خلا میں ان دونوں طریقوں سے کی جانے والی تولید کے فوائد کا موازنہ کریں گے، جس سے مستقبل میں خلا میں کی جانے والی زراعت کے لیے ٹھوس شواہد فراہم کیے جا سکیں گے ۔

    ویڈیوز

    زبان