• صفحہ اول>>دنیا

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات معطل

    (CRI)2026-06-22

    امریکہ اور ایران کے نمائندہ وفود کے درمیان 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے علاقے برجن اسٹاک میں مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا ۔

    ایرانی ذرائع کے مطابق تقریباً 80 منٹ تک جاری رہنے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، جبکہ ترجیحی طور پر لبنان سے متعلق امور پر توجہ دی گئی۔

    ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ ایران کی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی سے متعلق مسودہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کا اعلان جلد متوقع ہے۔ اسی طرح ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے انتظامی کارروائی بھی قطر کے وفد کی شمولیت سے جاری ہے۔

    مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق سمیت بعض وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔

    اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لبنان کی صورتحال سے متعلق بیان دیتے ہوئے ایران کو خبردار کیا کہ وہ لبنان میں اپنی مبینہ پراکسی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے، بصورت دیگر امریکہ دوبارہ سخت فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

    ایرانی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایرانی وفد نے امریکی نمائندوں کے سامنے احتجاج کیا اور جاری مذاکرات معطل کرکے اندرونی مشاورت شروع کر دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اس صورتحال کے جواب میں مناسب ردعمل تیار کر رہا ہے۔

    ایرانی وفد کے سربراہ اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ "بہتر ہوگا کہ وہ اپنے الفاظ میں احتیاط برتیں، کیونکہ ہماری مسلح افواج مختلف طریقوں سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔"

    ویڈیوز

    زبان