• صفحہ اول>>دنیا

    ایران امریکہ مذاکرات تکنیکی سطح پر جاری

    (CRI)2026-06-23

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 22 جون کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد وطن واپس روانہ ہو گیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ماہرین اور تکنیکی سطح پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی دعوت دینے پر اتفاق کیا ہے، جو امریکہ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

    تاہم اسماعیل بقائی نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان تعاون موجودہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہے گا اور اس حوالے سے ایرانی پارلیمان کے قوانین اور قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے فیصلوں کی پابندی کی جائے گی۔

    ادھر امریکی محکمہ خزانہ نے 60 روزہ عمومی اجازت نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت سے متعلق بعض لین دین کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ رعایت 21 اگست 2026 تک مؤثر رہے گی۔

    ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے بتایا کہ حالیہ مذاکرات میں منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کے معاملے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں ضروری دستاویزات پر دستخط بھی کیے جا چکے ہیں۔

    دریں اثنا لبنان کا معاملہ بھی مذاکراتی عمل میں ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے 22 جون کو ایک بیان میں کہا کہ جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوج کو سکیورٹی خطرات کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں ہوگا، اور اسرائیلی فوج نام نہاد "سکیورٹی زون" میں طویل مدت تک موجود رہے گی۔

    اس کے جواب میں ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اور امریکہ کو مشترکہ طور پر لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ حالیہ مذاکرات میں بعض شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم 60 روزہ مذاکراتی روڈ میپ کے تعطل کا خطرہ بھی برقرار ہے۔

    ویڈیوز

    زبان