• صفحہ اول>>دنیا

    ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے پر امریکہ اور ایران کے مؤقف میں اختلاف برقرار

    (CRI)2026-06-24

    امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن شٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے بعد 23 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک "منصفانہ معاہدے" تک پہنچنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی کا خاتمہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صرف 22 جون کے روز تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کیا گیا ۔

    اسی روز جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے مستقل مشن کے نمائندے علی بحرینی نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب کھول دی گئی ہے اور آئندہ 60 روز تک اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

    تاہم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے بیانات میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران نے "مکمل اور غیر مشروط طور پر اعلیٰ ترین سطح کے معائنے" کی منظوری دے دی ہے اور اس پر کسی مدت کی پابندی بھی نہیں ہوگی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسی روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فی الحال بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ایران کی متاثرہ جوہری تنصیبات کے دورے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    ویڈیوز

    زبان