
25 جون2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)شمال مشرقی چینی کا ساحلی شہر دالیان نویں مرتبہ ، عالمی اقتصادی فورم کے نئے رہنماؤں کی سالانہ میٹنگ،المعروف " سمر ڈیووس " کی میزبانی کر رہا ہے۔ 23 سے 25 جون تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان اور جنوبی کوریا کے وزیر اعظم کم من سوک سمیت ، 90 سے زائد ممالک اور خطوں سے 1,700 سے زیادہ شرکا شامل ہیں ۔
سمر ڈیووس کا آغاز 2007 میں ہوا تھا اور تب سے ہی یہ ، چینی معیشت کا ایک اہم دریچہ بن چکا ہے۔ اس سال کا ایک نمایاں پہلو"بڑے پیمانے پر اختراع " کا نیا تصور ہے۔ اختراع ، بذاتِ خود کوئی نیا موضوع نہیں ہے ہاں ، "پیمانے " کا اضافہ ایک نکتہ ہے، جو کہ جدت و اختراع کے حوالے سے چین کے ایک منفرد نقطہ نظر اور عالمی اقتصادی ترقی کی عملی ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔
چینی اکیڈمی برائے بین الاقوامی تجارت و اقتصادی تعاون کے سینئر محقق، جو می کی رائے میں یہ تصور الگ تھلگ یا کبھی کبھار ہونے والی تکنیکی کامیابیوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ ان اختراعات کے بارے میں ہے جو صنعتی شکل اختیار کر سکتی ہیں، تجارتی طور پر کامیاب ہو سکتی ہیں اور وسیع سماجی و اقتصادی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔چین کی اقتصادی ترقی خود "بڑے پیمانے پر اختراعات" کی ایک نصابی مثال ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں، عالمی اختراعی منظرنامے میں چین کا کردار "دنیا کی فیکٹری"سے ایک بڑے اختراعی مرکز میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت صرف تحقیق و ترقی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں نہیں، بلکہ اس کی صلاحیت یہ بھی ہے کہ وہ تکنیکی ترقی کو تیزی سے حقیقی دنیا کے لیے پیداوار میں تبدیل کر سکے، جو کہ اس کی وسیع داخلی مارکیٹ، مکمل صنعتی نظام اور بڑھتے ہوئے وسیع اختراعی ماحول کی بدولت ممکن ہے۔
چین نے نئی توانائی کی گاڑیوں کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ تشکیل دی ہے، جو سبز تبدیلیوں کو فروغ دے رہی ہے اور نئی صنعتیں تخلیق کر رہی ہے۔ سمارٹ مینوفیکچرنگ سے لے کر اے آئی سے چلنے والی زراعت تک، یہ بھرپور ایپلی کیشن منظرنامے پیش کرتا ہے۔ یہ مکمل دائرہ، تکنیکی کامیابیوں سے صنعتی آغاز اور بڑے پیمانے پر تجارتی ایپلی کیشنز تک ، بہت سے ممالک اس سے سیکھنے اور اس کی پیروی کرنے کی امید کرتے ہیں۔
اس سال کے سمر ڈیووس میں چین کا پیغام صرف اس کی ترقی کے تجربے تک محدود نہیں ہے۔ فورم سے ایک اور اہم اشارہ یہ ہے کہ چین، بڑے پیمانے پر جدت کے ذریعے سامنے آنے والے مواقع کو بانٹنے کے لیے تیار ہے۔فورم کے ایجنڈے میں چین کی اقتصادی ترقی کے اگلے مرحلے پر مباحثے اور ملک کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-30) کی تشریح کے لیے متعدد سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، جدید مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل معیشت اور سبز تبدیلی جیسے موضوعات کو نہ صرف چینی نقطہ نظر سے بلکہ عالمی تعاون کے تناظر میں بھی دریافت کیا جا رہا ہے۔
کچھ مغربی ممالک نے کافی عرصے سے، جدت کو بنیادی طور پر ٹیکنالوجی کی برتری اور سٹریٹجک فائدے کے لیے ایک "زیرو سم گیم" کے طور پر دیکھا ہے۔ اس کے برعکس، چین اس بات پر زیادہ اصرار کرتا ہے کہ جدت کو کس طرح صنعتی، تجارتی اور وسیع پیمانے پر قابل رسائی بنایا جا سکتا ہے، تاکہ زیادہ ممالک اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تکنیکی ترقی کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔
چین کی جدیدیت بین الاقوامی تعاون کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، چاہے وہ یورپ میں این ای وی سپلائی چین تعاون ہو، لاطینی امریکا میں ڈیجیٹل معیشت اور سبز ٹیکنالوجی کی شراکت داری ہو، یا افریقی ممالک کے ساتھ اے آئی تعاون ہو۔ چین کی وسیع پیمانے کی جدیدیت دنیا کے لیے خلفشار نہیں بلکہ مواقع لا رہی ہے؛ یہ محروم کرنا نہیں بلکہ با اختیار بنانا ہے۔
جب 2007 میں پہلی مرتبہ چین میں سمر ڈیووس کا آغاز ہوا، تو کچھ مغربی مبصرین نے اسے چین کی کامیابیوں کو پیش کرنے کے لیے ایک "پی آر پلیٹ فارم" سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا۔ تقریباً دو دہائیوں بعد، چین نے واقعی دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ یہ ایونٹ ،گلوبلائزیشن سے استفادہ کرنے والا ہی نہیں بلکہ عالمی جدت میں ایک اہم شراکت دار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے والا بھی ہے۔ ایک وسیع مارکیٹ، مکمل صنعتی نظام اور تعاون کے لیے کھلے پلیٹ فارم کے ذریعے، اختراعات کو بڑھایا جا سکتا ہے، حقیقی دنیا کے نتائج میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور مشترکہ ترقی کے لیے طاقت کا ایک ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔
تین دنوں کے "ڈیووس ٹائم " کے دوران،ایونٹ وینیو کے اردگرد بغیر ڈرائیور کے شٹل، ہائیڈروجن سے چلنے والے بسز اور نئی توانائی کی گاڑیاں چلیں اور ایونٹ وینیو کے اندر موجود نمائندے ،مستقبل کی صنعتوں اور اختراعی شراکت داریوں پر بات چیت کی گئی۔ یہ سب مل کر چین کے" بڑے پیمانے پر اختراعات " کے ماڈل کی ایک واضح تصویر پیش کرتے ہیں - جو نہ صرف تکنیکی کامیابیاں حاصل کرتا ہے، بلکہ صنعت، مارکیٹس اور وسیع تر دنیا میں اختراعی جدت لاتا ہے۔



