• صفحہ اول>>دنیا

    امریکہ اور ایران  کے  بالواسطہ مذاکرات

    (CRI)2026-07-02

    باخبر ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مقامی وقت کے مطابق یکم جولائی کو دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات میں ایرانی اثاثوں کو غیرمنجمد کرنے اور آبنائے ہرمز میں میری ٹائم سیکورٹی کو یقینی بنانے جیسے معاملات پرغور کیا گیا۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں نے یکم جولائی کو کہا کہ مذاکرات " خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں "۔

    ادھر ایران کے تکنیکی مذاکراتی وفد کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اسی دن دوحہ میں ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی بات چیت کے دوران ایرانی وفد نے لبنان میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے امریکہ ایران مفاہمت کی یادداشت کے تحت امریکہ کی جانب سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا اور امریکی حکام کی طرف سے بعض دھمکیوں اور مداخلتی بیانات پر تبادلہ خیال کیا۔ ایرانی وفد نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت میں تمام وعدے ایک دوسرے سے مربوط ہیں جنہیں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ غریب آبادی نے کہا کہ ایران امریکہ مفاہمت کی یادداشت سے متعلق کسی بھی خلاف ورزی کا جائزہ لینے کے لیے ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی جائے گی۔

    علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یکم جولائی کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لگام دینے کا وعدہ کیا ہے، لیکن اگر اسرائیل نے اس وعدے کو نظر انداز کیا تو ایران اسرائیل کو سبق سکھائے گا۔ عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام اور رہنماؤں کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکیوں کا "فوری اور مضبوط جواب" دیا جائے گا۔

    ویڈیوز

    زبان