
تصویر ، پاکستان ایمبیسی کیہ فراہم کردہ
3جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے ٹی وی ای ٹی کی جانب سے ادویہ، صحت عامہ اور بائیو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے تعاون سے متعلق ایک سمپوزیم کا انعقاد ہوا۔ سمپوزیم میں، پاکستان اور چین کے حکومتی اہلکاروں، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے نمائندگان، صنعتی شعبے سے وابستہ افراد اور تربیتی اداروں نے ہنرمندی کے فروغ اور سرمایہ کاری میں سہولت کے حوالے سے عملی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ سرمایہ کاری اور ہنرمندی کا فروغ ایک ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ کارخانوں کو ہنرمند افرادی قوت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو تربیت یافتہ تکنیکی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید مینوفیکچرنگ، بائیو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ہیلتھ میں چین کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان ،اپنے صحت کے نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے، جبکہ روزگار، برآمدات اور جدت کو فروغ دینے والی ہائی ویلو انڈسٹریز بھی تشکیل دی جا سکتی ہیں۔خلیل ہاشمی نے شریک چینی اداروں کو رواں ماہ کراچی میں ہونے والی پاکستان۔چین بی ٹو بی فارماسیوٹیکل، بائیو ٹیکنالوجی اینڈ ہیلتھ کیئر انویسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، جہاں وہ کاروباری اداروں سے براہ راست رابطہ کر کے افرادی قوت کی ترقی کے عملی حل پیش کر سکیں گے۔
سمپوزیم کے دوران چین کے فنی و پیشہ ورانہ اداروں کے نمائندگان نے اپنے تربیتی پروگرامز، بین الاقوامی تعاون کے تجربات اور پاکستان کے ساتھ ممکنہ تعاون کے شعبوں کو متعارف کروایا جن میں ، نرسنگ کی تعلیم ، ادویہ کے معیار کی جانچ، کلینیکل ٹیسٹنگ، ہیلتھ سروسز ، بائیو ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت، بزرگوں کی دیکھ بھال اور اطلاقی طبی ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں کو نمایاں کیا گیا۔اس موقع پر ٹرین دی ٹرینر پروگرامز، اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ سرٹیفیکیشن، نصاب کی تیاری، مہارتوں کے معیار اور شعبہ جاتی تربیتی مراکز کے قیام جیسے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔
ادویہ سازی، صحت عامہ اور بائیو ٹیکنالوجی کے شعبوں سے متعلق ٹی وی ای ٹی سمپوزیم کا مقصد پیشہ ورانہ تربیت کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا تھا، تاکہ پاکستان اور چین صحت، بائیو ٹیکنالوجی، ادویہ سازی اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دے سکیں۔



