• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چھ دہائیوں سے خود کو دیہی ترقی کے لیے وقف کرنے والے زرعی ماہر  کی کہانی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-07-06

    12 جون 2026 ۔ جاو یافو (بائیں جانب) اپنے  معاون کے ساتھ  صوبہ جیانگ سو کے  قصبے تھیان وانگ  میں چاول کی  نمو کی کارکردگی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔  ( شنہوا۔لی باو)

    12 جون 2026 ۔ جاو یافو (بائیں جانب) اپنے معاون کے ساتھ صوبہ جیانگ سو کے قصبے تھیان وانگ میں چاول کی نمو کی کارکردگی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ( شنہوا۔لی باو)

     6جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 80برس ،عمر کی وہ دہائی ہے کہ جب زیادہ تر لوگ اپنی ریٹائرمنٹ کی زندگی کا لطف اٹھاتے اور آرام کرتے ہیں۔ تاہم صوبہ جیانگ سو کے شہر جین جیانگ میں 85 سالہ زرعی ماہر جاو یافو ،اب بھی اپنا زیادہ تر وقت کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔

    1961 میں کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، جاو یافو نے زراعت میں ایک طویل مدتی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس تمام عرصے میں انہوں نے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ کام کیا، مقامی کسانوں کو تکنیکی رہنمائی فراہم کی اور ان کی آمدن بڑھانے میں مدد کی۔ 2001 میں جب جاو یافو ریٹائرڈ ہوئے تو انہوں نے دیہی علاقہ چھوڑنے کے بجائے جہ جیانگ کےایک نسبتاً دور دراز گاؤں، دائے جوانگ میں رضاکارانہ طور پر کام کا آغاز کیا۔ اس وقت، گاؤں کی فی کس سالانہ آمدنی 3,000 یوان (تقریباً 441.7 امریکی ڈالر) سے کم تھی۔ جاو نے چاول اور پھل کی پیداوار کو مویشیوں اور پرندوں کی فارمنگ کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو ایک زیادہ پائیدار زرعی طریقہ کار تشکیل دینے میں رہنمائی فراہم کی۔اس طریقہ کار نے آہستہ آہستہ گاؤں کے حالات کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں، یہاں بغیر کسی کیمیائی کھاد یا کیڑے مار ادویہ کے چاول کی کاشت کی گئی ہے، یہ گاؤں بتدریج، پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کے لیے ایک بہترین مسکن بن گیا ہے۔ مقامی ماحول بہتر ہوا، تو زرعی مصنوعات کے معیار اور ان کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا اور 2025 میں دائے جوانگ میں فی کس سالانہ آمدنی 47,000 یوان (تقریباً 6919.8 امریکی ڈالر) سے بھی زائد ہوچکی تھی۔

    2018 میں،جاو یا فو نے ایک سٹوڈیو قائم کیا۔اب تک اس سٹوڈیو نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے 1,200 دیہی ماہرین کو تربیت فراہم کی ہے۔ دائے جوانگ کے اس تجربے کو دیگر دیہی علاقوں میں بھی متعارف کروایا گیا ہے۔

    1991 کی فائل فوٹو ، صوبہ جیانگ سو کے کے قصبے بائی تھو میں ، جا ویا فو(دائیں جانب) ایک مقامی کسان کو سٹرابیری کی کاشت کے حوالے سے رہنمائی دے رہے ہیں۔(شنہوا)

    1991 کی فائل فوٹو ، صوبہ جیانگ سو کے کے قصبے بائی تھو میں ، جا ویا فو(دائیں جانب) ایک مقامی کسان کو سٹرابیری کی کاشت کے حوالے سے رہنمائی دے رہے ہیں۔(شنہوا)

    12 جون 2026۔ جاو یا فو (بائیں جانب) دائے جوانگ میں آڑو کے مقامی کاشت کاروں اور تقسیم کاروں کے ساتھ  پھل کی فروخت کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ (شنہوا ۔لی باو)

    12 جون 2026۔ جاو یا فو (بائیں جانب) دائے جوانگ میں آڑو کے مقامی کاشت کاروں اور تقسیم کاروں کے ساتھ پھل کی فروخت کے حوالے سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ (شنہوا ۔لی باو)

    15 مئی 2013۔جاو یا فو  ( بائیں سے دوسرے)  صوبہ جہ جیانگ کے گاوں، دائے جوانگ میں کسانوں کو  کاشت کاری کے نئے طریقوں کے بارے میں سمجھا رہے ہیں۔ (شنہوا۔ یانگ جینگ)

    15 مئی 2013۔جاو یا فو ( بائیں سے دوسرے) صوبہ جہ جیانگ کے گاوں، دائے جوانگ میں کسانوں کو کاشت کاری کے نئے طریقوں کے بارے میں سمجھا رہے ہیں۔ (شنہوا۔ یانگ جینگ)

    4 جون 2026۔ جا و یافو ،  یانگ جو یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ ، نامیاتی زراعت  کے فروغ  سے متعلق اپنے تجربات  پر بات چیت کر رہے ہیں۔ (شنہوا ۔لی بو)

    4 جون 2026۔ جا و یافو ، یانگ جو یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ ، نامیاتی زراعت کے فروغ سے متعلق اپنے تجربات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ (شنہوا ۔لی بو)

    12 جون 2026۔ جا یافو (درمیان میں) دائے جوانگ میں مقامی کاشت کار کے ساتھ  آڑو  کی فصل کی نشونما کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (شنہوا ۔لی باو)

    12 جون 2026۔ جا یافو (درمیان میں) دائے جوانگ میں مقامی کاشت کار کے ساتھ آڑو کی فصل کی نشونما کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (شنہوا ۔لی باو)

    14 مارچ 2019 کی فائل فوٹو ، صوبہ جیانگ سو کے قصبے  بائی تھو میں سٹرابیریز کی نمو کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ (شنہوا۔ یانگ جینگ)

    14 مارچ 2019 کی فائل فوٹو ، صوبہ جیانگ سو کے قصبے بائی تھو میں سٹرابیریز کی نمو کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ (شنہوا۔ یانگ جینگ)

    ویڈیوز

    زبان