3 جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 2 جولائی کو بیجنگ میں پاکستان کے سفارت خانے میں " پاکستان-چین شاہراہِ ریشم آم میلہ " منعقد ہوا۔ پاکستانی سفارت خانے اور چین-ایشیا و افریقا دفتر برائے فروغِ اقتصادی و تجارتی تعاون کے اشتراک سے منعقد ہ اس میلے میں سفارت کاروں سمیت ، کاروباری، ثقافتی اور ذرائع ابلاغ کے شعبے کے 400 سے زائد نمائندگان نے شرکت کی۔ اپنی بھینی خوشبو اور غیر معمولی مٹھاس کے ساتھ پاکستان سے چین آنے والے یہ آم ، اپنے ساتھ دوطرفہ زرعی تعاون اور عوامی سطح پر ثقافتی تبادلے کے نئے مواقع بھی لائے ہیں۔

2جولائی 2026 ۔ پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی ،چائنا-پاکستان سلک روڈ مینگو فیسٹیول کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن — لی جِن یو)
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ اس سال پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کو 75 سال مکمل ہو ئےہیں اور دونوں ممالک کی دوستی اب ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آم نہ صرف پاکستان کا ایک مقبول موسمی پھل ہے، بلکہ یہ پاکستانی عوام کی گرم جوشی کا بھی مظہر ہے۔ چینی دوستوں کے ساتھ آم بانٹنا، دراصل پاکستان کی مہمان نوازی، قومی ثقافت روایات اور دونوں ممالک کے عوام کی حقیقی دوستی کا اظہار ہے۔
خلیل ہاشمی نے پیپلز ڈیلی آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک-چین دوستی میں سب سے قیمتی بات باہمی اعتماد ہے۔ اس سال دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ ہے اور دونوں عوام کے درمیان دوستی آج بھی پہاڑوں کی طرح مضبوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آم میلے جیسی سرگرمیاں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور باہمی افہام و تعلق کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان اور چین سرمایہ کاری، تجارت، زرعی ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں جامع تعاون جاری رکھیں گے۔خلیل ہاشمی نے کہا کہ جس طرح ہم اپنے چینی دوستوں کو آم پیش کرتے ہیں، وہ صرف پھل نہیں بلکہ ہماری روایات ، ثقافت، جذبات اور گہری محبت کا پیغام ہے۔

2جولائی 2026 ۔پاکستانی اور چینی کمپنیز کے مابین آم کی تجارت اور لاجسٹکس سے متعلق مفاہمت کی دو یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن — لی جِن یو)
یہ تقریب محض پھل کے ذائقے تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس میں پاکستان اور چین کی چار کمپنیز نے آم کی تجارت اور لاجسٹکس سے متعلق دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ پاکستان کے اعلیدرجے کے آم کاشت کرنے والے کسانوں کے نمائندے ،رانا محمدنے پیپلز ڈیلی آن لائن سے بات کرتے ہوئے چین اور پاکستان کے درمیان زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون کو گہرا کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آم ایک بڑی صنعت ہے، لیکن فی الحال اس کی پروسیسنگ کی گنجائش محدود ہے، جس کی وجہ سے ہر سال ویلیو ایڈڈ کے شعبے میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ چین ،صنعتی ترقی، ویلیو ایڈد سروسز اور متعلقہ مصنوعات کی تیاری میں ایسی ٹیکنالوجی اور تجربہ رکھتا ہے جو آم کی صنعت اور کسانوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور وہ ان شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے یہاں آئے ہیں ۔
اس موقع پر ،چینی شرکا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت دارانہ تعلقات کے حامل ہیں اور 75 سال سے یہ دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ آم کی صنعت جیسا زرعی تعاون نہ صرف دو طرفہ عملی تعاون کا اہم حصہ ہے، بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کو بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے ۔ پاک-چین اقتصادی راہداری کی مسلسل ترقی کے ساتھ، دونوں ممالک کے زرعی تعاون میں مزید گہرائی آئے گی، جس سے باہمی فوائداور مشترکہ کامیابی حاصل ہوگی نیز اس ترقی سے دونوں ممالک کے عوام کو مزید فائدہ پہنچے گا۔



