مقامی وقت کے مطابق 7 جولائی کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعوی کیا کہ ایران کے خلاف نئے مرحلے کی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، جس میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں ایران کا فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، ساحلی ریڈار اسٹیشنز، اینٹی شپ میزائل صلاحیت، اور ایرانی اسلامی انقلابی گارڈز کی 60 سے زائد چھوٹی تیز رفتار کشتیاں شامل ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر ایران کی طرف سے حالیہ حملوں کا براہ راست جواب ہے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج مسلسل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور "اگر ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا یا اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو امریکہ کسی بھی وقت ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔"



