
27 جون 2026 ۔صوبہ سیچوان کے لیانگ شان یی خود اختیارعلاقے میں 16ویں بین الاقوامی بک ویٹ سمپوزیم کے دوران ایک مقامی بک ویٹ پروسیسنگ کمپنی کے سٹال پر مہمان مختلف مصنوعات دیکھ رہے ہیں ۔ (شنہوا)
8جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے لیانگ شان یی خود اختیارعلاقے کی بلند ڈھلوانوں پر، ٹارٹری بک ویٹ (سیاہ گندم/ چھکوئی) طویل عرصے سے محض بقا کے لیے اگایا جاتا رہا ہے نہ کہ ہیلتھ-فوڈ مارکیٹ کے لیے۔ جاو جوئے کاؤنٹی کے گاؤں بو شواہی کے یی قومیت کے کسان مادولا بتاتے ہیں کہ ماضی میں ان کی خوراک کا دارومدار دو فصلوں پر تھا،ایک آلو اور دوسرا چھکوئی ۔ یہ اناج ، آٹے میں پیس کر "چھیوبا " بنانے کے لیے استعمال ہوتا تھا، جو کہ ایک روایتی پین کیک ہے، اس کے علاوہ بھاپ میں پکائے گئے کیک، روٹی، نوڈلز اور سوپ میں اس کا آٹا شامل ہوتا تھا۔اس کا ذائقہ پہلے تو تھوڑا کڑوا لگتا ہے لیکن چبانے کے بعد اس میں ہلکی سی مٹھاس محسوس ہوتی ہے۔ حنگ دوان پہاڑوں کی مٹی زرخیز نہیں ہے اور کٹی پھٹی زمین کی وجہ سے یہاں فصل کے اگنے کا موسم مختصر ہوتا ہے نیز دن اور رات کے درجہ حرارت میں بے حد فرق کی وجہ سے چھکوئی ان چند فصلوں میں سے ایک ہے جو مکمل اعتماد کے ساتھ اگائی جا سکتی ہے اور مقامی کمیونٹیز کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔
اب پہاڑوں پر اگنے والی یہی عام سی مقامی فصل ایک بالکل مختلف مارکیٹ کا حصہ بن رہی ہے۔
صحت بخش غذاؤں کی بڑھتی ہوئی طلب، گلوٹن فری مصنوعات اور کم جی آئی غذاؤں کی وجہ سے، چھکوئی پہاڑوں کی زرعی جنس سے خوراک کی بین الاقوامی منڈیوں، تحقیقاتی پروگرامز اور پروسیسنگ چینز میں منتقل ہو رہی ہے جو کہ اس کی پیداوار کے اہم علاقے لیانگ شان کو ایک موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ ایک روایتی بنیادی غذا کو ایک وسیع صنعتی سلسلےمیں تبدیل کرے جو کھیتوں، فیکٹریز ، غیر ملکی منڈیوں اور چینی ساختہ پروسیسنگ آلات تک پھیلی ہوئی ہو۔
انٹرنیشنل بک ویٹ ریسرچ ایسوسی ایشن کے اعزازی صدر اور سلووینیا کی سائنس اینڈ آرٹ اکیڈمی کے رکن ایوان کریفٹ کے مطابق، یہ تبدیلی صرف چین تک محدود نہیں ہے بلکہ اناج کی اس قسم نے یورپ کے کچھ علاقوں میں بھی جگہ بنائی ہے۔تاریخی طور پر، بہت سے یورپی ممالک بشمول سلووینیا ، چھکوئی ، غریب اور پہاڑی لوگوں کی خوراک تھی۔ چین میں بھی اس سے ملتا جلتا طرزِ زندگی رائج تھا جہاں پہاڑی آبادی چھکوئی پر انحصار کرتی تھی جبکہ میدانی علاقوں کے لوگ چاول کھاتے تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ مجموعی صورتِ حال میں بہتری آئی اور گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوا تو آہستہ آہستہ چھکوئی نظرانداز ہونے لگی، بعض جگہوں پر تو اسے یکسر بھلا دیا گیا ، کیونکہ اس کا تعلق غربت اور مشکلات سے تھا۔ آج، اس کی طبی فوائد، خاص طور پر اس کی اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات کے بارے میں آگاہی اسے دوبارہ خوراک کے نظام میں شامل ہونے میں مدد دے رہی ہے۔
جون کے آخر میں لیانگ شان نے 16ویں بین الاقوامی بک ویٹ سمپوزیم کا انعقاد کیا، جس میں 15 ممالک سے تقریباً 300 ماہرین اور محققین نے شرکت کی۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، عالمی سطح پر چھکوئی کی پیداوار تقریباً 2.2 ملین ٹن سالانہ ہے، جس میں روس اور چین اہم پیدا واری ممالک میں شامل ہیں۔
خوراک کی کمپنیز کے لیے، چھکوئی کی غذائی خصوصیات باعثِ کشش ہیں۔ اس میں روٹین ، پروٹین اور فائبر موجود ہے، ان خصوصیات نے اسے گلوٹین فری، کم جی آئی اور دیگر صحت مند خوراک کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایک اچھا انتخاب بنا دیا ہے۔
لیانگ شان میں، ترسیل کی جانب بھی تبدیلیاں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ حوان تھائی بایئوٹیک کمپنی نے نسبتاً مکمل پروسیسنگ چینز قائم کی ہیں اس کے علاوہ مقامی کمپنیز ، جن کی توجہ صرف ٹارٹری بک ویٹ ٹی پر مرکوز تھی، اب آٹے، نوڈلز، سوئیوں اور دیگر مصنوعات کی جانب توجہ بڑھا رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ مصنوعات یورپ، جاپان اور جنوب مشرقی ایشیا کی مارکیٹس میں پہنچ رہی ہیں۔
حوان تھائی بایئوٹیک کے ایک ایگزیکٹو کے مطابق، بیرونی ممالک میں غذا کے تحفظ اور فعالیت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کی وجہ سے کمپنی ،اپ گریڈ نگ پر توجہ دے رہی ہے۔کمپنی اپنی پیداوار ی لائنز کو مختلف ممالک میں داخلے کے مروجہ تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے طبی معیار کے مطابق منظم کرتی ہے۔
لیانگ شان کے زراعت اور دیہی امور کے نائب سربراہ چھیو یونگ ہونگ کا کہنا ہے کہ مقامی حکام کے لیے پہاڑوں پر بکھری ہوئی فصل کو پروسیسنگ اور مارکیٹ کے نظام میں زیادہ مستحکم بنیاد پر داخل کرنا اہم کام ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 1 ملین مو، یا تقریباً 67,000 ہیکٹر، ٹارٹری بک ویٹ موجود ہے، جس کی سالانہ پیداوار تقریباً 180,000 ٹن ہےجو چین کی کل پیداوار کا تقریباً ایک تہائی ہے۔یہ وسیع تر پیش رفت ،لیانگ شان کی 4.43 ملین مو کی اعلیٰ معیار کی زرعی زمین کی مدد سے ہوئی ہے۔
سمپوزیم کے شرکا کے مطابق،بک ویٹ سپلائی چین پروسیسنگ کی صلاحیت اور آلات میں بھی چین کی حیثیت بڑھ رہی ہے۔ ہمالیہ کے علاقے میں جہاں بھارت، نیپال اور بھوٹان ہیں، اسے کاشت کیا جاتا ہے، لیکن یہ اکثر بنیادی استعمال تک ہی محدود ہےاور پروسیسنگ لنکس مضبوط نہیں ہیں ، اس کے برعکس، چین نے ایک مکمل پروسیسنگ نظام تیار کیا ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صنعت ابھی بھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ عالمی سطح پر، بک ویٹ کو کم پیداوار، محدود جینیاتی بہتری، اہم مرکبات کی ناکافی ترقی نیز پروسیسنگ اور ٹیسٹنگ کے معیار کی عدم تکمیل کا سامنا ہے۔
مدولا اور دیگر کسانوں کے لیے، لیانگشان میں، بک ویٹ اب صرف وہ اناج نہیں ہے کہ جو پہاڑی کمیونٹیز کے مشکل وقت میں ان کے گزارے کی خوراک تھا ۔ جیسے جیسے معیار، پروسیسنگ کی صلاحیت اور سپلائی چینز میں بہتری آ رہی ہے، ایک فصل جو کبھی بقا سے جڑی ہوئی تھی، اب کھیتوں، فیکٹریز اور سمندر پار کی منڈیوں میں منتقل ہو رہی ہے اور ان پہاڑوں سے کہیں زیادہ قدر وصول کر رہی ہے جہاں یہ طویل عرصے سے اگائی جاتی رہی ہے۔

17 اپریل 2024 ۔ جنوب مغربی چین کے صوبے سیچوان کے لیانگ شان یی خود اختیارعلاقے کے ٹارٹری بک ویٹ (سیاہ گندم/ چھکوئی) کےکھیتوں میں مقامی کسان چنائی کر رہے ہیں۔ (شنہوا)

19 دسمبر 2025۔ صوبہ سیچوان کے لیانگ شان یی خود اختیارعلاقے میں حوان تھائی بائیوٹیک کارپوریشن لمیٹڈ میں بک ویٹ ٹی کی پیداوری لائنز ۔(شنہوا)

26 جون 2026 ۔صوبہ سیچوان کے لیانگ شان یی خود اختیارعلاقے میں 16ویں بین الاقوامی بک ویٹ سمپوزیم کے دوران جمہوریہ کوریا کی چھنگ بک نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر سن- ہی وو لیکچر دے رہے ہیں۔ (شنہوا)

25 جون 2026 ۔صوبہ سیچوان کے لیانگ شان یی خود اختیارعلاقے میں 16ویں بین الاقوامی بک ویٹ سمپوزیم میں شریک انٹرنیشنل بک ویٹ ریسرچ ایسوسی ایشن کے اعزازی صدر اور سلووینیا کی سائنس اینڈ آرٹ اکیڈمی کے رکن ایوان کریفٹ۔ (شنہوا)



