جنیوا میں قائم "فرینڈز آف گلوبل گورننس گروپ" نے 7 جولائی کو جنیوا میں " سیمینار برائے بہبودِ انسانیت اور سب کے لیے فائدہ مند مصنوعی ذہانت کی ترقی" منعقد کیا۔
چین کے وزیر برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی، لی لہ چھنگ نے سیمینار میں چین کی مصنوعی ذہانت کی ترقی میں حاصل کردہ کامیابیوں کا تعارف پیش کیا اور مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق کے لیے مضبوط تر بین الاقوامی تعاون کی اپیل کی ۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور سوئٹزرلینڈ میں دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے لیے چینی مندوب جیا گوئی دہ نے کہا کہ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کو مفید، محفوظ اور منصفانہ سمت میں ترقی دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ عالمی نظم و نسق کی بہتری کے لیے زیادہ حصہ ڈالا جائے۔
قازقستان کے نائب وزیر اعظم مادیئیف، پاکستان کی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات شزا فاطمہ خواجہ،روس کے نائب وزیر خارجہ علیموف،اقوام متحدہ کے ڈیجیٹل اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے خصوصی ایلچی امندیپ سنگھ گل سمیت انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین، یو این انسٹی ٹیوٹ برائے تربیت و تحقیق، ورلڈ انٹلیکچول پراپرٹی آرگنائزیشن، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور ساؤتھ سینٹر کے سربراہان،جنیوا میں مقیم زیمبیا، کینیا، گیمبیا اور مالدیپ کے مستقل نمائندوں، اور چینی اور غیر ملکی تھنک ٹینک اسکالرز نے بھی سیمینار سے خطاب کیا۔ جبوتی، تھائی لینڈ، بیلاروس اور "فرینڈز آف گلوبل گورننس گروپ" کے دیگر رکن ممالک کے وزراء اور مستقل مندوبین کے ساتھ ساتھ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کے عہدیداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان سمیت 200 سے زائد افراد نے اس سیمینار میں شرکت کی۔



