• صفحہ اول>>چین پاکستان

    پاکستان-چین کپاس تعاون: سنکیانگ کے بیجوں کی درآمد کا منصوبہ

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-07-09

    8جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 6 جولائی کو لاہور میں ایک زرعی کانفرنس میں پاکستان- چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کمرشل سفیر عدیل منور نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سیزن میں کپاس کی پیداوار گزشتہ تیس برسوں کی کم ترین سطح پر رہی۔ انہوں نے بتایا کہ پیداوار بڑھانے کے لیے پاکستان، چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے سے کپاس کے اعلیٰ پیداوار دینے والے اور اعلیٰ معیار کے بیج درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ پاک-چین کپاس تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

    عدیل منور کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کپاس کی کم پیداوار کی بنیادی وجہ سائنسی اور کاشت کاری کی تکنیکوں میں تسلسل کا فقدان ہے۔ پاکستانی کسانوں کے پاس بیجائی، آبپاشی، کیڑوں پر قابو پانے اور گھاس پھونس کے انتظام جیسے شعبوں میں سائنسی رہنمائی نہیں ہے۔ چین، خصوصاً سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے میں کپاس کی اعلیٰ پیداوار اور عمدہ خصوصیات پاکستان کی ضروریات کے عین مطابق ہیں۔ چینی بیجوں کی درآمد اور ان کی موافقت کے ٹیسٹ کے ذریعے پاکستان مقامی حالات کے مطابق، کپاس کی بہترین اقسام تیار کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وسیع رقبے پر کاشتکاری ممکن ہے اور کپاس کی ایک مضبوط ٹیکسٹائل انڈسٹری موجود ہے، جب کہ چین کے پاس بہترین بیج اور جدید ترین زرعی ٹیکنالوجی ہے، اس لیےپاک-چین کپاس تعاون امکانات سے بھرپور ہے۔

    صوبہ پنجاب کے بڑے زرعی شہر فیصل آباد میں، سنکیانگ زرعی یونیورسٹی اور پاکستان کی مقامی یونیورسٹیز کے مابین، کپاس کی کاشت کے حوالے سے کئی سالوں سے تعاون جاری ہے۔ وہاں کپاس کی اقسام کی کی جانچ اور مشاہدے کے لیے تجرباتی کھیت تشکیل دیئے گئے ہیں اور چین کے تکنیکی ماہرین ،پاکستان میں مشینی کٹائی کے تجربات کرنے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں کپاس کی تقریباً 98 فیصد کٹائی ہاتھ سے کی جاتی ہے، جب کہ سنکیانگ میں کپاس کی مشین سے کٹائی کی شرح 90 فیصد سے زائد ہے۔ مزید برآں، سنکیانگ میں عام استعمال ہونے والی ڈرپ آبپاشی اور پلاسٹک فلم ملچنگ کی ٹیکنالوجیز پاکستان میں اب تک بڑے پیمانے پر استعمال نہیں کی گئی ہیں۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 6 جولائی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں کپاس کی کاشت کو کچھ مشکلات کا سامنا ہے، تاہم چینی ٹیکنالوجی، سامان اور اعلیٰ معیار کی اقسام پاکستان کے لیے مددگار ہو سکتی ہیں اور پاک-چین کپاس تعاون دونوں ممالک کی پیداوار بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

    پاکستان -چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سیکریٹری جنرل ،صلاح الدین حنیف نے بتایا کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کپاس کی اقسام کی افزائش اور کاشتکاری کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے لیے ایک جدید بائیو ٹیکنالوجی لیبارٹری قائم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چین کی معاونت اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت، پاکستان کی کپاس کی پیداوار ایک نئے اور جدید ترقیاتی راستے پر گامزن ہو سکتی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان