سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرے گی تو قوم ترقی کرے گی، سائنس اور ٹیکنالوجی کا شعبہ مضبوط ہوگا تو ملک مضبوط ہوگا۔
8 جولائی کو، نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایوارڈز کانفرنس، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی 22ویں اکیڈمیشنز کانفرنس، چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کی 18ویں اکیڈمیشنز کانفرنس اور چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی 11ویں قومی کانگریس کا انعقاد ہوا۔ چین کے صدر شی جن پھنگ نے کانفرنس میں شرکت کی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے اعلیٰ ترین قومی ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو ایوارڈز دیئے اور اہم خطاب کیا۔
پارٹی اور ریاستی امور کی ترقی کے مجموعی سٹریٹجک نقطہ نظر سے بات کرتے ہوئے، شی جن پھنگ نے حالیہ برسوں میں ملک کے سائنسی اور تکنیکی شعبے میں حاصل ہونے والی شاندار کامیابیوں کو سراہا، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو درپیش نئی صورتحال کا گہرا ئی سے تجزیہ کیا اور "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے" کے دوران، سائنسی و تکنیکی امور کے حوالے سے پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے تمام فیصلوں کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے واضح احکامات پیش کیے۔ انہوں نے نئے دور میں سائنسی اور تکنیکی کام کو بہتر انداز میں سرانجام دینے اور سائنسی و تکنیکی جدت طرازی کے ذریعے چینی طرزِ جدیدیت کی بھرپور معاونت اور رہنمائی کے لیے آگے بڑھنے کی سمت متعین کی اور بنیادی اصول فراہم کیے۔
یہ "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے" کے آغاز کے سال میں منعقد ہونے والا ایک عظیم سائنسی اور تکنیکی اجلاس ہے، جس نے پوری پارٹی، معاشرے بالخصوص سائنسی و تکنیکی کارکنوں کو بھرپور انداز میں متحرک کیا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ 2035 تک ، سائنسی اور تکنیکی لحاظ سے مضبوط ملک بنانے کے ہدف کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھیں اور چینی طرزِ جدیدیت کے ذریعے ایک مضبوط ملک کی تعمیر اور قومی نشاۃ ثانیہ کے عظیم مقصد میں نئی اور اہم شراکت کریں۔
شی جن پھنگ سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کے کام کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ گزرتے برسوں میں انہوں نے، دو اکیڈمیز کی اکیڈمیشنز کانفرنسز اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن کی قومی کانگریس میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے ذاتی طور پر سائنسی و تکنیکی نظام کی اصلاحات کی منصوبہ بندی کی اوران کا نفاذ کیا، سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کے اہم، بنیادی اور طویل مدتی مسائل کے حوالے سے کئی اہم بیانات دیئے۔ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کی مضبوط قیادت میں، منظم انداز کے ساتھ ایک سائنسی اور تکنیکی طور پر مضبوط ملک کی تعمیر کا خاکہ تیار کیا گیا ہے، جدت پر مبنی ترقی کی حکمت عملی پر جامع عمل درآمد کیا گیا ہے اور ملک کی سائنسی و تکنیکی صلاحیت مسلسل نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔
چینی طرز کی جدیدیت کو سائنسی وتکنیکی جدیدیت کی معاونت درکار ہے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے حصول کے لیے سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کے ذریعے نئی قوت محرکہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، لائف سائنسز اور مادی علوم جیسے شعبوں میں مسلسل اہم کامیابیاں سامنے آ رہی ہیں۔ "چھانگ عہ 6" نے انسانی تاریخ میں پہلی بار چاند کے دور افتادہ حصے کے نمونے واپس زمین پر لانے کا کارنامہ سر انجام دیا ہے اور اختراعی ادویہ نے نقل اور پیروی سے لے کر پہلی بار تخلیق تک کی جست بھری ہے۔ یہ اختراعی کامیابیاں چین کی "بنیادی صلاحیت" کو نمایاں کرتی ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کی بلندیوں کو سر کرنے کے حوصلے کو اجاگر کرتی ہیں اور سائنسی و تکنیکی لحاظ سے مضبوط ملک کی تعمیر کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
چین نے 95 فی صد زیادہ فصلیں آزادانہ انتخاب کے ذریعے اگائی ہیں اور اب انٹیگریٹڈ سرکٹس، بائیو میڈیسن اور سمارٹ روبوٹس جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں کی تیز رفتار ترقی سے لے کر ہائیڈروجن اور نیوکلیئر فیوژن انرجی، برین کمپیوٹر انٹرفیسزاور سکستھ جنریشن (6G) موبائل کمیونیکیشن کو اقتصادی ترقی کے نئے مراکز بنانے تک، اعلیٰ معیار کی سائنسی اور تکنیکی فراہمی کے ذریعے صنعتی جدت طرازی کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ چین کی نئی معیاری پیداواری صلاحیتیں تیزی سے ابھر رہی ہیں اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی قوت محرکہ عروج پر ہے۔
نئے دور اور خاص طور پر "چودہویں پانچ سالہ منصوبے" کے بعد سے، چینی طرزِ جدیدیت کی کامیابیوں ،نمایاں ترقی اور اقتصادی حجم کے ، 140 ٹریلین یوان تک کے سنگ میل تک پہنچنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ چین نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے سٹریٹجک کردار اور بنیادی معاونت کو ثابت قدم رہتے ہوئے تفصیل سے سمجھا ہے اور ہمیشہ جدیدیت میں تکنیکی جدت کو نمایاں مقام دیا ہے۔
آج کا چین عالمی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں حصہ لینے والے اور شراکت دار کے کردار سے تیزی سے تبدیل ہو کر ایک علمبردار اور رہنما بن رہا ہے، اور جدت طرازی میں سب سے تیزی سے ابھرنے والے ممالک میں سے ایک بن گیا ہے۔
نئے دور میں سائنسی اور تکنیکی امور کی تاریخی کامیابیوں اور تاریخی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ کامریڈ شی جن پھنگ کی قیادت میں پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی رہنمائی اور نئے دور کے لیے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم پر شی جن پھنگ کے افکار کی سائنسی رہنمائی ہے۔ سائنسی و تکنیکی ترقی کے اس غیر معمولی سفر پر نظر ڈالتے ہوئے اور چین کی سائنسی و تکنیکی جدت طرازی میں یکے بعد دیگرے حاصل ہونے والی بڑی کامیابیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے، "دو تقرریوں" کی فیصلہ کن اہمیت کو مزید گہرائی سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس بات کا پورا یقین ہوتا ہے کہ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کی مرکزی اور متحدہ قیادت ہی چین کے سائنسی اور تکنیکی امور کو بخوبی سر انجام دینے کی بنیادی ضمانت ہے۔
آج چین کی ترقی، سوشلسٹ جدیدیت کے حصول کے لیے بنیادی ڈھانچہ مضبوط کرنے اور ہمہ گیر کوششوں کے ایک اہم دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک سائنسی اور تکنیکی لحاظ سے مضبوط ملک کی تعمیر کے اس نازک مرحلے پر ، "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے" کے خاکے میں ،سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی کے قائدانہ کردار کو نمایاں کیا گیا ہے اور جدید صنعتی نظام کی تشکیل، اعلیٰ سطح کی سائنسی و تکنیکی خود انحصاری کو تیز کرنے نیز اقتصادی و سماجی ترقی کی ہمہ گیر سبز منتقلی کو تیز کرنے کے حوالے سے انتظامات کیے گئے ہیں۔
اس کانفرنس میں، شی جن پھنگ نے چھ اہم کاموں کی منصوبہ بندی کی جن میں سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی میں تحقیق اور ترقی کی منظم صلاحیت کو بڑھانے، سائنسی و تکنیکی جدت طرازی اور صنعتی جدت طرازی کے گہرے انضمام کو فروغ دینےنیز ، بہترین نوجوان سائنسی اور تکنیکی ٹیلنٹ کی بھرپور تربیت کرنا شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ذمہ داری، فعالیت اور مشن کے احساس کو مزید بڑھانا ہوگا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جرات مندی اور مہارت کے ساتھ ان کے نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔
نئے دور اور نئے سفر میں، چینی طرزِ جدیدیت کے ذریعے ایک مضبوط ملک کی تعمیر اور قومی نشاۃ ثانیہ کے عظیم مقصد کو جامع انداز میں آگے بڑھانے کا مشن بہت بڑا اور چیلنجز سے بھرپور ہے۔ چین کو سائنسی اور تکنیکی لحاظ سے ایک مضبوط ملک بنانا وقت کی اہم ضرورت اور ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ کامریڈ شی جن پھنگ کی قیادت میں سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے گرد مزید مضبوطی سے متحد ہوں، نئے دور کے لیے چینی خصوصیات کے حامل سوشلزم پر شی جن پھنگ کے افکار پر مکمل عمل درآمد کریں، اپنے اہداف پر توجہ مرکوز کریں، بلند حوصلگی کےساتھ چلیں ، کامیابی پر پختی یقین رکھیں، اعلیٰ سطحی سائنسی وتکنیکی خود انحصاری اور اعلیٰ سطحی صلاحیت کو بڑھائیں نیز قدم بہ قدم اس عظیم تصور کو ایک خوبصورت حقیقت میں تبدیل کریں۔



