مقامی وقت کے مطابق 10 جولائی کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ فائر بندی ختم ہونے کے اعلان کے باوجود امریکی فوج کی کارروائیوں میں فی الحال کوئی آپریشنل تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ نے ایران کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے کی تجویز سے اتفاق کیا ،تاہم اب فائر بندی ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ایک ہزار میزائل ایران کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں، اور خبردار کیا کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ فوری طور پر مزید ہزاروں میزائل داغ دے گا۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج ایک سال کے اندر ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ادھر 10 تاریخ کی شام پاکستان کے وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔قطر کے امیر سے گفتگو میں شہباز شریف نے قطر پر حالیہ حملوں کے تناظر میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام متعلقہ فریق مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں کا مکمل احترام کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔



