مقامی وقت کے مطابق 12 جولائی کو ایران نے اپنے خلاف امریکی حملوں کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اہداف پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے امریکی مشرقی وقت کے مطابق 11 تاریخ کو سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ اس نے ایک ہفتے کے دوران ایران کے خلاف تیسرا حملہ مکمل کیا، جس میں تقریباً 140 ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے 12 تاریخ کو جاری بیان میں کہا کہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں واقع شہزادہ حسن ایئر بیس پر حملہ کیا، جہاں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور MQ-9 ڈرونز کے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا۔بیان کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس پر بھی میزائل حملہ کیا، جس میں لڑاکا طیاروں کی مرمت کے مرکز اور کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں، آئی آر جی سی ایرو اسپیس فورس نےعمان کی بندرگاہ دقم میں قائم امریکی بحری لاجسٹکس سپورٹ سینٹر اور طیارہ بردار بحری جہازوں کے ایندھن بھرنے کے پلیٹ فارم پر بھی حملہ کیا ۔ ایران نے اس کارروائی کو ایک وسیع اور اچانک فوجی آپریشن قرار دیا ہے۔
12 تاریخ کی صبح ، بحرین میں دو مرتبہ ایئر ڈیفنس سائرن بجائے گئے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اس کی فضائی دفاعی افواج میزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ بنا رہی ہیں۔ ادھر قطر کی وزارتِ داخلہ نے 12 تاریخ کو سیکیورٹی الرٹ جاری کیا، جس کے بعد دارالحکومت دوحہ میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس سے قبل اردن نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو بھی فعال کر دیا تھا۔



