13جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)رواں سال فروری میں چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی انوویشن پارک کا دورہ کیا،یہ چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے آغاز پر ان کا مقامی سطح کا پہلا معائنہ جاتی دورہ تھا۔
شی جن پھنگ جو چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے سربراہ بھی ہیں،انہوں نے اس دورے کو ایک بصیرت افروز تجربہ قرار دیا جو ملک کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت پر ان کے اعتماد کو مزید مستحکم کرتا ہے۔یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک بڑی قوم کے رہنما کی حیثیت سے،شی جن پھنگ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور قوت،ہمیشہ سے شی جن پھنگ کی قومی ترجیحات میں شامل رہی ہیں۔تحقیقی اداروں سے لے کر کاروباری ورکشاپس تک اور لیبارٹریز سے لے کر پیداواری لائنز تک،وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت کے سرے پر پہنچے اور مخلصانہ رہنمائی فراہم کرتے ہوئے آگے کا راستہ متعین کیا۔
مئی 2020 میں،شمالی چین کے صوبے شان شی کے صوبائی دارالحکومت،تھائی یوان میں شان شی تھائی گانگ سٹین لیس سٹیل پریسیژن سٹرپ کمپنی لمیٹڈ کے تحقیقی دورے کے دوران،شی جن پھنگ نے ہاتھوں سے دہری کی جانے کے قابل دھاتی پٹی کو اپنی انگلیوں کے گرد لپیٹتے ہوئے کام کے اس اعلی معیار کی بھرپور تعریف کی۔
جون 2022 میں،وسطی چین کے صوبے ،حوبے کے شہر ووہان میں،ایچ جی لیزر انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی قوت و صلاحیت کو مضبوطی سے چین کے اپنے ہاتھوں میں رکھنے اور ملک کی ترقی کو زیادہ آزاد،خود انحصار اور محفوظ بنانے پر زور دیا۔
مئی 2025 میں،جب وہ وسطی چین کے صوبے حہ نان میں لویانگ بیئرنگ گروپ کمپنی لمیٹڈ کا دورہ کر رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ جدید مینوفیکچرنگ،سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت پر انحصار کرتی ہے اور بنیادی تکنیکی کامیابیوں کے حصول اور خود مختار جدت کے راستے کی تلاش میں مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سال اپریل میں،شنگھائی میں بنیادی تحقیق کو مضبوط کرنے کے حوالے سے ایک سمپوزیم میں،شی جن پھنگ نے بنیادی تحقیق کو مستحکم کرنے، حقیقی جدت کی صلاحیت کو بڑھانے اور ملک کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیادی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنے اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی مضبوط قیادت کے تحت،جس میں کامریڈ شی جن پھنگ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں،نئے دور میں داخل ہوتے ہوئے ہر سٹریٹجک منصوبے نے مستقبل کی ترقی کے لیے ایک برتری حاصل کی ہے،وقت کی پکار کا جواب دیا ہے اور ملک کو سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت میں ایک عروج کی طرف گامزن کیا ہے۔
آج چین،سائنس اور ٹیکنالوجی میں عالمی شراکت دار اور معاون سے ایک پیش رو اور رہنما کے کردار میں ڈھل رہا ہے اور جدت و اختراع کی صلاحیت میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا دور ،ملک کی سائنس وٹیکنالوجی کی صلاحیت کو بڑھانے میں سخت مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے خاکے میں خود انحصاری اور سائنس و ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے منظم منصوبے پیش کیے گئے ہیں اور "سائنسی وتکنیکی خود انحصاری اور صلاحیت میں نمایاں بہتری" کو اگلے پانچ سالوں کے دوران اقتصادی اور سماجی ترقی کے سات بڑے اہداف میں شامل کیا گیا ہے۔
8 جولائی کو بیجنگ میں منعقدہ،چین کی نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایوارڈ کانفرنس،چائنیز اکیڈمی آف سائنسز،چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ارکان کی جنرل اسمبلیز اور چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی گیارہویں قومی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تاریخی موقع کو غنیمت جاننا چاہیے،وقت کے چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے،سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ سطح کی خود انحصاری اور صلاحیت حاصل کرنے کی کوششوں کو تیز کرنا چاہیے اور 2035 کے اہداف کی طرف مستقل پیش رفت کرنی چاہیے تاکہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایک ممتاز ملک بن سکیں۔



