مقامی وقت کے مطابق 13 جولائی کو، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت "یقینی طور پر ایک بحرانی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے"۔انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتا رہے گا، ایران بھی اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا پابند نہیں ہوگا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مسقط میں ہونے والی بات چیت صرف آبنائے ہرمز کے معاملے تک محدود تھی، جبکہ دیگر امور پر گفتگو کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک طریقۂ کار وضع کرنے کے لیے عمان کے ساتھ مشاورت کی، تاہم عمان پر دباؤ کے باعث یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔



