
چین کے جنوب مغربی صوبے گوئے جو کے، چھیان دونگ نان میاو اور دونگ خود اختیار پریفیکچر کی کاونٹی لی پھنگ کے پہاڑوں سے گھرے،ندیوں سے سیراب ہوتے گاؤں، جاوشنگ دونگ کا فضائی منظر(پیپلز ڈیلی آن لائن/یانگ چھیان)
14جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے ایک اہم غیر مادی ثقافتی ورثے کے گاؤں، جاوشنگ دونگ کی ایک ورکشاپ میں، دونگ دستکار موم تراشنے والی چھریوں کا استعمال کرتے ہوئے سفید کپڑے پر احتیاط سے دونگ تہذیب کے مخصوص مظاہرِ فطرت ، پھولوں اور پرندوں کے نمونےبناتے ہیں ۔ ہر نقش اور لکیر ,دونگ قوم کے آباو اجداد کی ,روشن مستقبل کے لیے ان کی امید خود میں سموئے ،نسل در نسل منتقل ہوتی جمالیاتی روایات کی عکاسی کرتی ہے۔

جاوشنگ دونگ کی ایک ورکشاپ میں یہاں آنے والے افراد ، روایتی غیر مادی ثقافتی ورثے کا عملی تجربہ کرتے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/یانگ چھیان)
لو یونگ مئے، روایتی دستکار کسانوں کے ایک "پروفیشنل کو آپریٹو" کی سربراہ اور نیلی رنگائی کی تکنیک کی صوبائی سطح کی وارث ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کئی سال پہلے، رنگائی اور بنائی کی روایتی تکنیکیں اپنی آخری سانسیں لے رہی تھیں۔ روایتی دونگ ٹیکسٹائل کے ڈیزائن محدود تھے اور دونگ قومیت کی بہت سی خواتین فنکار اپنی دستکاری سے روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی تھیں۔
روایت کو محفوظ رکھنے اور آمدن کے نئےمواقع پیدا کرنے کے لیے، لو یونگ مئے ،کو آپریٹو کی قیادت کرتے ہوئے کاونٹی بھر میں تجربہ کار فنکاروں کے پاس گئیں تاکہ معدومیت کے خطرے کی شکار تکنیکوں کو بحال کیا جا سکے اور پہاڑوں سے باہر ڈیزائن کے محرکات تلاش کیے جائیں۔ روایت کو جدید جمالیات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ، کوآپریٹو نے مخصوص نیلی رنگائی کے ٹی میٹ، بیگ، ثقافتی اور تخلیقی بالیاں اور گھریلو سجاوٹ سمیت نئی مصنوعات کی ایک رینج تیار کی ہے۔

چین کے صوبے گوئے جو کے چھیان دونگ نان میاو اور دونگ خود اختیار پریفیکچر کی کاونٹی ، لی پھنگ کے گاؤں جاوشنگ دونگ میں سیاح ، یہاں کے روایتی ملبوسات میں تصویر کھنچوا رہی ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن/یانگ چھیان)
دونگ دستکار ، جو ماضی میں روزگار کے حوالے سے تشویش میں مبتلا تھے آج ، اپنے علاقے میں گھروں کے پاس ہی دستکاری کی ورکشاپس میں کام کرتے ہیں ، آمدن بھی اچھی اور مستقل ہوگئی ، اپنے بال بچوں سے بھی دور نہیں ہوتے ، گھر بار کا دھیان رکھنے میں بھی آسانی ہے اور پھر اس فن کو آگے منتقل کرنے اور نئے رنگوں میں ڈھالنے کا فن بھی فروغ پا رہا ہے۔

جاوشنگ دونگ گاؤں کا ایک پر رونق منظر ۔(پیپلز ڈیلی آن لائن/یانگ چھیان)
گزشتہ سال کے دوران، جاوشنگ دونگ گاؤں میں غیر مادی ثقافتی ورثے کے دستکاری کے عملی تجربات کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ غیر مادی ثقافتی ورثے کی بنیاد پر تخلیقی ثقافتی مصنوعات تیار کرنے کے لیے لو یونگ مئے کے کو آپریٹو کا کام جاری ہے۔ اب تک انہوں نے 600 سے زائدتخلیقی ثقافتی مصنوعات تیار کی ہیں جو قومیتی خصوصیات کو جدید عملی صلاحیتوں کے ساتھ منسلک کرتی ہیں۔ 228 رجسٹرڈ اراکین کے ساتھ، اس کوآپریٹو نے پہاڑوں میں چھپی ہوئی روایتی دستکاری کے اس فن کو آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بنایا ہے اور اب تک آرڈر پر مبنی پیداوار، مہارت کی تربیت اور ورکشاپ کی ملازمت کے ذریعے 100 سے زیادہ دیہات کی 1,000 سے زیادہ خواتین کی معاونت کی ہے۔

جاوشنگ دونگ گاؤں میں آنے والے لوگ ، رنگائی کے اس فن کا بذاتِ خود عملی تجربہ کرتے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن/یانگ چھیان)

صوبہ گوئے جو کے چھیان دونگ نان میاو اور دونگ خود اختیار پریفیکچر کی کاونٹی لی پھن کے جاوشنگ دونگ گاؤں میں ، نیلے رنگ کی مخصوص رنگائی سے بنائی گئی مختلف اشیا ۔(پیپلز ڈیلی آن لائن/یانگ چھیان)



