14جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں اوسط متوقع عمر کو 2030 تک 80 سال تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جو کہ 2025 میں 79.25 سال تھی ۔ چین کی ریاستی کونسل کا یہ منصوبہ، چین کی عوامی طبی خدمات کو بہتر بنانے اور صحت مند چین اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ اس میں ہیلتھ کیئر تک رسائی، صحت کے انتظام کی آگاہی وشعور کو بڑھانے اور صحت کے بنیادی اشاریوں کو خوشحال ممالک کے برابر لانے کے اقدامات شامل ہیں۔
لائف سائیکل ہیلتھ سروسز
منصوبے میں دھوئیں سے پاک مقامات اور تمباکو نوشی ترک کرنے پروگرامز کا فروغ بھی شامل ہے تاکہ 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں تمباکو نوشی کی شرح کو 20 فیصد تک کم کیا جا سکے۔ اس میں تمام لوگوں کے لیے آل راونڈ لائف سائیکل ہیلتھ سروسز کو بہتر بنانے کا ہدف مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ، زچگی کی پالیسیز میں ترمیم، بانجھ پن کے علاج کو معیاری بنانے اور معاون تولیدی ٹیکنالوجیز کو منظم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں موزوں طریقوں کی کوریج میں اضافہ شامل ہے۔
اس منصوبے میں خواتین کی صحت کے حوالے سے، چھاتی اور گردن کے سرطان کی سکریننگ، جلد تشخیص اور علاج پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ اس کا مقصد حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام کے تحت اہل لڑکیوں کے لیے مفت HPV ویکسینیشن فراہم کرنا ہے۔
بزرگوں کے لیے، اس منصوبے میں بہتر ادویہ کے لیے رہنمائی اور خصوصی نگہداشت، بزرگوں کے لیے گھریلو نگہداشت کے فروغ اور معذور بزرگوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے پرتوجہ دی گئی ہے۔ منصوبے میں مزدوروں کے لیے صحت کے تحفظ کو مزید مستحکم کیا گیا ہے ،معذور افراد اور کم آمدنی والے گروپس کی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے، معذور بچوں کے لیے بحالی کی معاونت کو بڑھانے اور غربت کے باعث ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کیا گیا ہے۔
طبی خدمات تک رسائی کے لیے، منصوبے میں صحت کے وسائل مختص کرنے کے طریقے کو بہتر بنانے، بڑے ہسپتالوں کی علاج اور تحقیق کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ، بنیادی صحت کے وسائل کی تقسیم کو مقامی حالات کے مطابق بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ، بحالی کے کارکنوں کی تعداد اور مخصوص نرسز اور معالجین کی تربیت میں اضافے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت 2030 تک ہر 10,000 افراد کے لیے 0.7 ری ہیبلی ٹیشن فزیشن اور 1.6 ری ہیبلی ٹیشن تھراپسٹ کا ہدف طے کیا گیا ہے۔
نئے محرکات کا فروغ
آئندہ پانچ سالوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ،ڈیٹا کے اشتراک اور مصنوعی ذہانت پر توجہ دیتے ہوئے، صحت کی دیکھ بھال کو نمایاں ترقی دیں گی۔
اس حکمت عملی میں صوبوں کے مابین طبی ریکارڈز کے اشتراک کے لیے ایک نیشنل سمارٹ ہیلتھ کیئر پلیٹ فارم شامل ہے، جو حقیقی وقت میں میڈیکل امیجنگ تک رسائی اور پبلک ہیلتھ ڈیٹا کے انضمام کو بہتر بناتا ہے۔اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے دواسازی کی صنعت کو بہتر بنانا نیز جدید ادویہ اور طبی آلات کو فروغ دینا ہے۔
یہ حکمت عملی بین الاقوامی سطح پر کلینیکل تحقیق اور صحت کی خدمات میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ، اعلیٰ ہسپتالوں میں صحت کے تعاون کے مراکز تجویز کرتی ہے ۔اس کے علاوہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت صحت کے تعاون کو مضبوط کرنے نیز عوامی صحت اور روایتی طب میں بیرون ملک طبی معاونت بڑھانے پر بھی زور دیتی ہے۔
جون 2023 تک، چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے ممالک میں صحت کے تعاون کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، 160 سے زائد ممالک کے ساتھ معاہدے قائم کیے اور چین-افریقا نیز چین-آسیان صحت کے تعاون سمیت صحت کے تعاون کے نو فریم ورکس میں شامل ہوا۔
اس حکمتِ عملی سے روایتی چینی طب کی معیاریت کو بڑھانے اور اس کی عالمی شناخت کو فروغ دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔



