امریکہ اور ایران کی جانب سے 7 جولائی کو ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے آغاز کو تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ تہران کے مقامی وقت کے مطابق 14 جولائی کی رات گئے تک ایران کے متعدد علاقوں میں وقفے وقفے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ اس صورتحال کے حوالے سے ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اسی روز اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب مؤثر نہیں رہی۔
اسی دوران آبنائے ہرمز کے انتظامی کنٹرول کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق نئے قانون کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جبکہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف سمندری ناکہ بندی بھی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ 14 جولائی کو امریکی صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک سے آبنائے ہرمز کے انتظامی اخراجات کی وصولی کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان بھی کیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی میں کمی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمتوں میں 14 جولائی کو گزشتہ روز کا اضافہ برقرار رہا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے 15 جولائی کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکہ ایران کے خلاف حملے جاری رکھے گا، اس خطے سے " قدرتی گیس اور تیل کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں کیا جائے گا۔



