مقامی وقت کے مطابق 16 جولائی کو امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر فوجی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایران کے بندر عباس، بوشہر شہر اور جزیرہ قشم سمیت کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 16 جولائی کو کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور، براہِ راست اور بغیر کسی تاخیر کے جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اسی روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے حالیہ دنوں ایران کے خلاف کیے گئے مسلسل فوجی حملوں کی مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکہ نے سمندری ناکہ بندی کے اعلان کے ساتھ ساتھ ایران پر فوجی حملوں میں اضافہ کیا اور متعدد غیر فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہیں اور "جنگی جرائم" کے زمرے میں آتے ہیں۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان لیویٹ نے 16 جولائی کو امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ امریکی کارروائیاں ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی اور تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے باعث کی گئیں۔
16 جولائی کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مسلسل متاثر رہی اور صرف 13 تجارتی جہاز وہاں سے گزر سکے، جو جنگ سے قبل کی صورتحال کے تقریباً دسویں حصے کے برابر ہے۔



