کیوبا کے وزیر خارجہ برونو رودریگز نے 16 جولائی کو کہا کہ بعض امریکی میڈیا ادارے بار بار امریکی حکومت کی جانب سے کیوبا کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کے لیے پروپیگنڈے میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت میڈیا میں پھیلائی جانے والی نام نہاد معلومات کے ذریعے ایک ایسی فوجی مہم کے لیے "عوامی رائے" کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے جس کا کوئی جواز موجود نہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق 15 جولائی کو بعض باخبر حکام نے بتایا کہ امریکی محکمہ دفاع کے فوجی منصوبہ ساز گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کیوبا کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں زمینی فوج کی قیادت میں کارروائی، 101ویں ایئر بورن ڈویژن کی تعیناتی اور ہزاروں فوجیوں پر مشتمل فضائی حملہ بھی شامل ہے۔
امریکہ طویل عرصے سے کیوبا کے خلاف اقتصادی، مالیاتی پابندیاں اور تجارتی ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے۔ وینزویلا اور ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "اگلا نمبر کیوبا کا ہے"۔ بعد ازاں ، امریکہ نے کیوبا پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے تیل کی ناکہ بندی کے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔



