• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    فوٹو وولٹک پاور، چین میں توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-09-01

    2 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کی قومی انتظامیہ کے مطابق، جولائی کے آخر تک، چین کی فوٹو وولٹک توانائی کی تنصیبی صلاحیت 1.286 بلین کلو واٹ تک پہنچ گئی۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فوٹو وولٹک توانائی کی تنصیبی صلاحیت کوئلے سے حاصل ہونے والی توانائی سے زیادہ ہوئی ہے اور فوٹو وولٹک پاور، ملک میں توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہے۔

    چائنا الیکٹرسٹی کونسل کے ماہر لیو جی چھیانگ کا کہنا ہے کہ یہ، چین کے سبز اور کم کاربن توانائی کی جانب منتقلی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں،نئی توانائی کو مرکزیت دیتے ہوئے توانائی کا نیا نظام تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔جولائی کے آخر تک، فوٹو وولٹک توانائی نے چین کی بجلی پیدا کرنے کی کل تنصیبی صلاحیت کا 30 فیصد سے زیادہ پیدا کیا۔ نئی اضافی صلاحیت کے لحاظ سے، یہ پہلے سات ماہ میں 40 فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے، جس سے فوٹو وولٹک سیکٹر کی تیز تر توسیع واضح ہوتی ہے۔

    چین کی فوٹو وولٹک توانائی اور نئی توانائی کی تیز ترقی عالمی سطح پر بھی مثبت شراکت فراہم کر رہی ہے۔ چین، دنیا کے سب سے بڑے اور قابل تجدید توانائی کے تیزی سے توسیع پذیر نظام کے ساتھ، دنیا بھر میں 80 فیصد سے زیادہ فوٹو وولٹک ماڈیولز اور 70 فیصد ونڈ پاور سامان کی فراہمی کرتا ہے، جو کئی ممالک میں سبز منتقلی میں معاون ہے۔

    ماہرین کی رائے میں، خاص طور پر، توانائی اور اہم خام مال کی عالمی رسد میں غیر یقینی صورت حال میں، چین کی نئی توانائی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت نے توانائی کی مقامی طلب کو پورا کرنے میں مدد دی جب کہ توانائی کی عالمی مارکیٹس اور سپلائی چین کے استحکام میں بھی مدد فراہم کی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں تیار ہونے والے ہر دس میں سے تقریباً آٹھ فوٹو وولٹک ماڈیولز "میڈ اِن چائنا" ہیں۔ توقع ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران چین کی فوٹو وولٹک صنعت میں سرمایہ کاری 2 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر جائے گی۔

    ویڈیوز

    زبان