• صفحہ اول>>ویڈیوز

    "انڈر سٹینڈنگ چائنا": کیا چین ہر چیز پر حاوی ہو نے والا ہے؟

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-07

    7جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)سائنسی انداز میں تشکیل دیئے گئے پانچ سالہ منصوبے اور ان کے نفاذ کا تسلسل ،کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے لیے ملک کے انتظام و انصرام کو سنبھالنے کا ایک اہم ذریعہ اور بین الاقوامی برادری کے لیے چینی جدیدیت کے راستے کو بہتر طور پر جاننے اور سمجھنے کا اہم دریچہ ہیں۔

    پیپلز ڈیلی آن لائن نے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے حوالے سے ، پروگرامز کے ایک نئے سلسلے ، "انڈر سٹینڈ چائنا" کا آغاز کیا ہے ۔ اس میں چین کی ترقیاتی منصوبہ بندی، مواقع اور حکمرانی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کا مقصد غلط فہمیاں دور کرنا ،باہمی سمجھ بوجھ کو بڑھانا اور اس کی توثیق کرنا ہے۔

    "انڈر سٹینڈنگ چائنا" کی اس قسط میں ، جو کہ کمیونیکیشن یونیورسٹی چائنا میں نیشنل سینٹر فار انوویشن سٹڈیز کے پروفیسر اور ڈائریکٹر جی دہ چیانگ اور نوٹنگھم یونیورسٹی بزنس سکول چائنا میں سٹریٹجک مینجمنٹ کے پروفیسر مارٹن لاکیٹ کی گفتگو پیش کی جارہی ہے۔ دونوں شخصیات نے چین کی اقتصادی ترقی اور عالمی جدت پر اس کی سائنسی و تکنیکی خود انحصاری کے اثرات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔

    کیا چین ہر چیز پر حاوی ہونے والا ہے؟ چین کی تکنیکی ترقی کے بارے میں بیرونی خدشات کے جواب میں ، مارٹن لاکیٹ کا کہنا تھا کہ ایسے سوالات کچھ حد تک مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں چین کی کامیابیوں کے باعث پیدا ہوتے ہیں ۔ ان کی رائے میں "چین ایک خطرہ" کا نظریہ مبالغہ آمیز ہے جس کی وجہ یا تو فرسودہ خیالات ہیں یا پھر کسی قسم کی غلط فہمی ہے۔ چین کی اعلیٰ سطحی سائنسی و تکنیکی خود انحصاری کو مضبوط کرنے کی کوشش بیک وقت ردعمل اور پیشگی جواب ،دونوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ چین بین الاقوامی کاروباری تحقیق سے "دوہری صلاحیت" کے تصور کو اس طرح استعمال کرتا ہے کہ اس کی مکمل وضاحت ہوجائے۔ خود انحصاری کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو اہم مصنوعات، خدمات وغیرہ کی صلاحیت ہونی چاہیے، تاکہ مکمل طور پر کسی ایک پر انحصار کیے بغیر کام کیا جا سکے، لیکن دوسری طرف ایک پیداواری عالمی معیشت کے حصول کے لیے پیداواری تعاون بھی درکار ہےاور چیلنج یہ ہے کہ یہ دونوں بیک وقت ہوں۔

    پروفیسر جی دہ چیانگ کے مطابق، چین ہر چیز پر تسلط جمانے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ چین میں احساسِ ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری نہ صرف اس کی اپنی ہائی ٹیک سپورٹڈ ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں ظاہر ہوتی ہے، بلکہ ترقی پذیر ممالک کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں مدد کرنے اور مارکیٹ کے فوائد کو بانٹنے میں بھی نظر آتی ہے۔چین جیسے بڑے ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ بنیادی ٹیکنالوجیز میں اہم صلاحیتوں کو برقرار رکھے تاکہ سکیورٹی کے لیے تکنیکی صلاحیت کو ترقی دے سکے اور صنعتی خطرات کو کم کر سکے، لیکن سائنسی و تکنیکی خود انحصاری بندش کے مترادف نہیں ہے۔مارکیٹ کے زیادہ تر مسائل کے لیے، چین بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ چین کی اعلیٰ سطح کی سائنسی و تکنیکی خود انحصاری کو تیز کرنے کی کوشش تاریخ کا نتیجہ اور اعلیٰ معیار کے کثیر الجہتی تعاون کی بنیاد ہے۔

    دونوں مہمانوں نے کئی ٹھوس مثالوں کی مثال دی ،جن میں جنوبی افریقا کا ڈی آر ونڈ پاور پروجیکٹ شامل ہے، جو مقامی بجلی کی کمی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور بے دو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم جو دنیا کے ساتھ ساجھا گیا ہے۔ خلا میں بین الاقوامی تعاون سے لے کر چین اور دیگر ممالک کے مابین انٹیلی جنٹ وہیکل کے شعبے میں تعاون تک، یہ بات واضح ہے کہ چین کی سائنسی و تکنیکی ترقی خود انحصاری پر زور اور بین الاقوامی تعاون اور کھلے پن کی پر توجہ دیتی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان