25 فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین، خریداری کی مقامی صلاحیت کو بڑحانے کے لیے نئے پورٹ آف انٹری ڈیوٹی فری سٹورز بڑھا رہا ہے ۔ڈیوٹی فری ریٹیل نیٹ ورک کو بڑھانے کا مقصد یہ ہے کہ جب سرحد پار سیاحت میں بھی اضافہ ہورہا ہےتو مسافروں کو خریداری کے مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں ۔

شمالی چین کے شہر تھیان جن کی پہلی ، ڈاؤن ٹاؤن ڈیوٹی فری شاپ میں غیر ملکی سیاح دھوپ کے چشمے منتخب کر رہی ہیں ۔ (شِنہوا/سن فین یوئے)
حال ہی میں، پانچ حکومتی محکموں بشمول وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے 41 نئی ڈیوٹی فری شاپس کے افتتاح کا اعلان کیا ہے جو سرحدی داخلے کے مقامات پر قائم ہوں گی،ان کے علاوہ 11 موجودہ دکانیں بھی شامل ہیں، جیسے کہ ہائی نان میں ہائیکو میلان بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ڈیوٹی فری شاپس ۔ ان میں سے سمندری بندرگاہوں پر نو ڈیوٹی فری سٹورز بین الاقوامی کروز شپ اور فیری کے مسافروں کو خدمات فراہم کریں گے، جبکہ بارہ زمینی سرحدی سٹورز بڑے زمینی راستوں جیسے گوانگ دونگ میں شینزن بے پورٹ ، اندرون منگولیا میں مان جولی ہائی وے پورٹ اور حیلونگ جیانگ کی سوئی فین حہ ہائی وے پورٹ کے ذریعے چین میں داخل ہونے والے مسافروں کو سہولت فراہم کریں گے۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ توسیع صرف نئے اسٹورز کھولنے کی حد تک نہیں ہے ؛ یہ ترسیل و فراہمی کو بہتر بنانے، خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے اور ڈیوٹی فری ریٹیل کو قومی سیاحت اور نقل و حمل کے نظاموں سے جوڑنے کی ایک حکمت عملی ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ اکنامک کوآپریشن کے ایسوسی ایٹ ریسرچر حونگ یونگ کی رائے میں ،نئے سٹورز ان علاقوں میں خلا کو پر کرتے ہیں جہاں پہلے کوئی ڈیوٹی فری آپشن نہیں تھا اور الگ تھلگ مقامات کے بجائے زیادہ مربوط ترتیب فراہم کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں، حکومت کی ڈیوٹی فری سیکٹر کی مسلسل حمایت کا مقصد ڈیوٹی فری خریداری کو غیر ملکی تجارت کو مستحکم کرنے، گھریلو طلب میں اضافہ، اور صارفین کے اخراجات کی واپسی کو فروغ دینے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔
شہر میں ڈیوٹی فری شاپس کی ترقی اور 41 بندرگاہوں پر ڈیوٹی فری شاپس کی حالیہ منظوری کا مقصد ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر بنانا، بین الاقوامی صارفین کو متوجہ کرنا اور معیاری اشیا کی مقامی طلب کو پورا کرنا ہے۔ایک متحرک بیرونی ماحول میں، ڈیوٹی فری نظام کو ایک بہتر پالیسی کردار سونپا گیا ہے تاکہ اعلیٰ معیار کے کھلے پن کے اقدامات اور مقامی کھپت کو بڑھانے کی کی کوششوں میں مکمل حمایت فراہم کی جاسکے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئے پورٹ آف انٹری ڈیوٹی فری سٹورز سرحدی سفر کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ، 2025 میں 30.08 ملین ویزا فری داخلے ہوئے، جو تمام غیر ملکی داخلوں کا 73.1 فی صد اور پچھلے سال کے مقابلے میں 49.5 فی صد کا اضافہ ہے۔ یہ پورٹ آف انٹری ڈیوٹی فری سٹورز بین الاقوامی سیاحوں کے لیے آسان خریداری کا موقع فراہم کرتے ہیں اور مقامی کھپت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
توسیع شدہ نئے ڈیوٹی فری نیٹ ورک سے سیاحت، لاجسٹکس، ثقافتی اور تخلیقی مصنوعات سمیت مختلف صنعتوں کی ترقی میں مدد ملے گی کی اور علاقائی ترقی کو مربوط کرنے میں آسانی ہوگی۔ حونگ یونگ کا کہنا ہے کہ ایک ڈیوٹی فری سٹور اپنے ارد گرد کے تجارتی شعبوں، لاجسٹکس، گودام، سپلائی چینزاور برینڈ آپریشنز پر اثر انداز ہوتا ہے، متعلقہ صنعتوں میں مربوط ترقی کو فروغ دیتا ہے اور مقامی علاقوں کو ایک مکمل "پورٹ اکانومی ایکو سسٹم" تشکیل دینے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔اس کے علاوہ ڈیوٹی فری سٹورز ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا کرتے ہیں اور مقامی اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھاتے ہیں۔طویل مدت میں، یہ نئے سٹورز علاقائی ترقی کو فروغ دیں گے۔داخلی بندرگاہوں پر ڈیوٹی فری شاپس کی توسیع مرکزی، مغربی اور سرحدی علاقوں میں صارفیت کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے، بندرگاہی شہروں کی اہم وسائل پت توجہ دینے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے نیز لوگوں، سامان اور صارفین کے خرچ کے مربوط بہاؤ کو فروغ دیتی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسی پالیسیز ، کھلے پن کے فوائد کو مربوط علاقائی ترقی کے ساتھ ملا دیتی ہیں، ادارہ جاتی جدت کا استعمال کر کے صارفیت کی نئی صلاحیت کو کھولنے اور صنعتی ترقی کے مواقع کو بڑھاتی ہیں۔



