کھائلی، چین کے صوبے گوئے جو کا ایک ایسا شہر جو توقع سے زیادہ تیزی سے آپ کے سامنے سے غائب ہوجاتا ہے۔ ایک لمحے میں، آپ شہری ماحول میں ہوتے ہیں اور اگلے ہی لمحے، سڑک اوپر کی طرف جاتی ہے، عمارات یک دم کم ہوجاتی ہیں اور آپ پہاڑوں اور جنگلات کے درمیان ایک خاموش ماحول میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری ڈرائیو کے دوران، میرے ساتھی نے ایک گاؤں اور ایک فلم کا ذکر کیا، لیکن میں ہدایت کار، فلم اور مقامی لوگوں کے بارے میں صرف چند ادھورے جملے ہی سن سکا۔
جس فلم کا ذکر وہ کر رہے تھے وہ 2015 میں ریلیز ہونے والی فلم "کھائلی بلیوز" ہے جس کے ہدایت کار بائی گان کا تعلق گوئے جو ہی سے تھا ۔ کہانی ایک دیہی ڈاکٹر کی ہے جو گوئے جو کے پہاڑی علاقوں میں اپنے گم شدہ بھتیجے کو تلاش کر رہا ہے۔ فلم کے دوران 41 منٹ کا ایک بے حد متاثر کن سنگل شاٹ شامل ہے۔ کیمرہ دریائے دنگ مائی کے کنارے پر آباد گاؤں میں موٹر سائیکلز ، کشتیوں اور پیدل پا پیادہ آگے بڑھتا ہے، بغیر کسی کٹ کے چائے خانوں، پلوں اور ایک ہیئر ڈریسر کی دکان میں مناظر کو قید کرتا ہے ۔ کاسٹ کے زیادہ تر اداکار مقامی اور غیر پیشہ ور اداکار تھے جن کی حقیقی زندگی کی کہانیاں بائی نے ان کی پرفارمنس میں بنیں۔ دنگ مائی نام کا گاوں ایک تصوراتی گاؤں ہے مطلب اس نام کا کوئی گاوں حقیقت میں موجود نہیں ہے؛ فلم میں اس گاوں کو دکھانے کے لیے فلم بندی پھنگ لیانگ نام کے حقیقی گاؤں میں ہوئی۔
یہی وہ گاوں ہے جس کی جانب ہم محوِ سفر تھے جہاں اس فلم میں ایک کردار ادا کرنے والے انکل جانگ نے گاوں کے آغاز پر ہی ہمارا استقبال کیا ۔ 74 سالہ انکل جانگ اور ان کی چال ڈھال کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ وہ 60 سال سے زائد عمر کے ہوں گے لیکن وہ مسکراتے باتیں کرتے ہمیں ان تمام راستوں سے لے کر آگے بڑھتے جارہے تھے جو راستے جو منظر ہم نے فلم میں دیکھے تھے ۔
آئیے آپ کو بھی دکھاتے ہیں فلم کے منظر سے حقیقی زندگی کے ان مناظر تک کا سفر۔



