• صفحہ اول>>ویڈیوز

    برفانی قصبے کی کایا پلٹ کی کہانی: "آئس اینڈ سنو" نے سیاہ مٹی  کی خوشحالی کے " سکور کارڈ " کو کیسے بہتر کیا

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-10-13

    13 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے شمال مشرقی صوبے حیلونگ جیانگ کے شہر ،مودان جیانگ کا شوانگ فنگ فاریسٹ پارک، شدید برف باری کے لیے مشہور ہے ۔یہاں پر برف باری کا موسم سات ماہ تک جاری رہتا ہے اور برف کی تہہ 2 میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔

    جانگ وئے ، اسی فاریسٹ پارک میں ایک عام سےمزدور ہوا کرتے تھے ۔ماضی میں جب برف کی تہہ ان کی کمر تک پہنچ جاتی تھی تو وہ دونوں ہاتھوں اور پیروں کی مدد سے چلتے ہوئے برف میں اپنا راستہ بناتےتھے اور یہ تمام سردیوں میں ان کا روزانہ کا معمول تھا۔ اس وقت شدید سردی اور بھاری برف باری لوگوں کے لیے ایک بار تھی، پھر بھی یہ شمال مشرقی چین کے جنگلات کے علاقوں میں مزدوروں کے لیے سال کا سب سے سخت محنت کا وقت ہوتا تھا ۔

    انیس سو اسی کی دہائی میں، شوانگ فینگ فاریسٹ فارم کے منفرد برفانی مناظر ، تصاویر کی صورت میں اس علاقے سے باہر کے لوگوں تک پہنچے تو لوگوں نے پریوں کی کہانیوں جیسے، خوابناک مناظر سے بھرپور اس علاقے کو " سنو ٹاون" کا نام دیا اور اس کی شہرت دور دراز تک پہنچنے لگی۔

    سال 2014 میں، ماحول کی حفاظت کے لیے لکڑی کی تجارتی کٹائی کو روک دیا گیا ۔ جنگلات کے مزدور جن کے معاش کا انحصار لکڑی کی کٹائی پر تھا ، ان کو روزگار کے حصول کی منتقلی کے چیلنج کا سامنا تھا ۔

    ایسے میں جانگ ، جنگلات میں کٹائی کرنے والے مزدور سے ، "سنو ٹاون" کے عملے کا ایک رکن بن گئے اور آئس اینڈ سنو مجسمہ سازی ، پریڈ کی تیاریوں اور اس علاقے میں برف سے تراشے گئے ماحول کی حفاظت پر مامور ہوگئے ۔ وہ اس علاقے کے برف سے متعلقہ وسائل کو ماحولیاتی سیاحت کے ایک نئے محرک میں تبدیل کر نے والی فورس کا حصہ بن گئے ۔ ان کے ہاتھوں نے نہ صرف برف کو تراشا، بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک نیا باب بھی تراشا ۔

    اس تبدیلی کے بعد ،جنگلات کے ٹریکٹر آپریٹرز، آرے چلانے والے اور لکڑی کی نقل و حمل کرنے والے ڈرائیورز سب نے ،نئی " آئس اینڈسنو انڈسٹری" میں اپنے نئے کردار تلاش کر لیے مثلاً کچھ نے مہمان خانے کھولے، جبکہ کچھ نے"ٹور کار" چلا کر سیاحوں کو اس علاقے کے مناظر دکھانے کا کام شروع کردیا ۔مختصر یہ کہ "آئس اینڈ سنو اکانومی " مقامی خوشحالی کا ایک نیا محرک بن گئی ۔

    آج ، سنو ٹاؤن میں 200 سے زیادہ کاروبار موجود ہیں، ہر سردی میں 800,000 سے زیادہ سیاح یہاں آتے ہیں ،یہ صنعت جنگلات کے1,000 سے زیادہ سابق کارکنوں کو روزگار فراہم کر رہی ہے اور دلکش مناظر والے علاقے میں 5,500 سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔ "آئس اینڈ سنو " سے نہ صرف ثقافت اور سیاحت کا امتزاج ہوا ہے بلکہ اس نے صنعتی ترقی کو بھی فروغ دیا ہے اور اس وقت یہ شمال مشرقی چین میں دیہی احیا کا ایک اہم ستون ہے۔

    جیسا کہ صدر شی جن پھنگ نے کہا تھا کہ " برف اور برف باری ،لوگوں کے لیے خوشحالی کے حصول اور دیہی علاقوں کی تعمیرِ نو کا ذریعہ بن چکی ہیں "۔ قدرتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے، ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے اور قدرتی حسن کو معیشت میں تبدیل کرتے ہوئے ،"سنو ٹاون" کی یہ تبدیلی ، چین کی سبز ترقی کے ذریعے غربت کے خاتمے کی کوششوں کی ایک واضح عملی مثال ہے ۔یہ تجربہ ،مقامی کمیونٹیز کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور دنیا کے لیے بھی چین کے سبز ترقی، دیہی احیا اور غربت کے خاتمے کو یکجا کرنے کے طریقہ کار کا عملی مظاہرہ پیش کرتا ہے۔

    سخت سردی اور بھاری برف باری ،آج معاشی ترقی کے لیے قیمتی سرمایہ بن گئے ہیں۔ ، جانگ اور ان کے ساتھیوں کی محنت اور ذہانت سے ، برف اور بر ف باری کے اس ماحول میں سیاہ مٹی طاقت مجتمع کرتی ہے ،انہوں نے جنگل کے "لکڑی کے پیالے" کو "خزانے کے طشت " میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس محنت سے ایک امید افزا موسم بہار کا استقبال کرتے ہوئے چین ، دنیا سے غربت کے خاتمے کی کہانی میں ایک روشن باب رقم کرتا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان