15 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شمال مغربی چین کے صوبے چھنگ ہائی کا گولوگ تبتی خوداختیار علاقہ، 4,200 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع ہے، جو اسے چین کا سب سے بلند خود اختیار قومیتی علاقہ بناتا ہے۔ شدیدسردی کے ماحول نے حیرت انگیز برف پوش پہاڑوں، آمنے ماچن کا سلسلہ تخلیق کیا لیکن یہی پہاڑ تعلیم کی ترقی میں رکاوٹ بن گئے۔ تعلیمی بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر لو نینگ کے مطابق، چین کے 30 قومیتی خوداختیار علاقوں میں سب سے سخت قدرتی چیلنجز کا سامنا کرنے والا علاقہ گولوگ ہے۔انتہائی بلندی، کم آکسیجن اور بکھری ہوئی آبادی نے بنیادی تعلیم کی ترقی کو سست کر دیا، جس کی تعلیمی نظام میں تاریخی درجہ بندی چھنگ ہائی سمیت ملکی سطح پر بھی سب سے کم رہی لیکن اب یہاں کے لوگوں کی تعلیم میں بہتری، اولین ترجیح ہے۔
2010 میں، شی زانگ امور سے متعلق پانچویں مرکزی سمپوزیم میں ، چِھنگ ہائی کے گولوگ پریفیکچر کو " پیئرڈ اسسٹنس " مہیا کرنے کے لیے شنگھائی کو منتخب کیا گیا ۔ تعلیمی مسائل پر قابو پانے کے لیے، گولوگ نے ایک جدید ماڈل کے تحت سکولز کو پریفیکچر کے باہر کھولا اور گولوگ کے طلبہ کے لیے چِنگھائی کی دارالحکومت شی نینگ میں ای ک مڈل اسکول قائم کیا گیا، جہاں بلندی باقی علاقے کی نسبت کافی کم ہے۔ 2019 میں، گولوگ شی نینگ مڈل سکول مکمل ہوا تو طلبہ کے داخلے شروع ہوئے ۔
شنگھائی میونسپل حکومت کے شی نینگ دفتر کے ڈائریکٹر، چھنگ کی معاونت کے چھٹے بیچ کے اہلکاروں کے رابطہ گروپ کے سربراہ، سی پی سی گولوگ پریفیکچر کمیٹی کے نائب سیکریٹری اور گولوگ پریفیکچر کے نائب گورنر، تھیان جہ کا کہنا ہے کہ ہم تعلیم کے ذریعے ہر بچے کی ممکنہ صلاحیتوں کو مکمل طور پر سامنے لانے کی امید کرتے ہیں اور اس کے حصول کی خاطر شنگھائی اور چین کے دیگر علاقوں سے جدید تدریسی طریقے ، وسائل اور پروگرامز کو متعارف کروایا گیا ہے۔
اس سکول نے شنگھائی کنزرویٹری آف میوزک کے اساتذہ کے ساتھ مل کر چین کا پہلا تبتی نوجوانوں کا ونڈ آرکسٹرا قائم کیا، جس نے بیجنگ کے نیشنل سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس میں پرفارم کیا۔ اس اسکول نے مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی کی ترقی اور تجرباتی سائنسز کے کورسز بھی شامل کیے تاکہ مشرقی چین اور مغرب میں اقلیتی قومیتی علاقوں کے مابین تعلیمی فرق کو کم کیا جا سکے۔
جون 2024 میں، کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین ، صدر شی جن پھنگ نےچھنگ ہائی میں گولوگ شی نینگ قومیتی مڈل سکول کا دورہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ طلبہ سکول کے سازگار ماحول اور وسائل کی قدر کریں گے اور چینی خصوصیات کے ساتھ سوشلسٹ مقصد کے جانشین اور معمار بنیں گے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ غربت زدہ علاقوں میں بچوں کو اچھی تعلیم مہیا کرنا غربت میں کمی اور ترقی کے لیے ایک اہم کام ہے اور یہ غربت کی نسل در نسل منتقلی کا سلسلہ توڑنے کا ایک اہم طریقہ بھی ہے۔
سکول کی پرنسپل جینگ چھیانگ کے مطابق سکول کے نتائج بہترین ہیں 2022 میں گاوکھاو امتحانات میں اسکول کے پہلے بیچ کے 60 فیصد سے زیادہ طلبہ انڈر گریجویٹ پروگرام میں کامیاب ہوئے جب کہ یہ اعداد و شمار 2026 میں 84.17 فیصد تک پہنچ گئے ۔ اسکول کے سات طلبہ"پروجیکٹ 985" یونیورسٹیز میں، 38 "پروجیکٹ 211" یونیورسٹیز میں اور ایک طالب علم کو فوجی اکیڈمی میں داخلہ ملا ، جو گولوگ میں تعلیمی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔



