یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے حالیہ تجارتی معاہدے کو جرمن کاروباری برادری نےتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جرمن فیڈریشن آف ہول سیل، فارن ٹریڈ اینڈ سروسز (بی جی اے) کے چیئرمین ڈرک یانڈورا کا کہنا تھا کہ 'ٹیرف میں ہرایک فیصد کا اضافہ بہت زیادہ ہے، جو ہمارے تاجروں کے وجود کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے اسے 'غیر ملکی تجارت کے لیے ایک بڑا دھچکا' قرار دیا۔ جرمنی میں کیل انسٹی ٹیوٹ فار دی ورلڈ اکانومی (آئی ایف ڈبلیو) کے مطابق، امریکا کے ساتھ اس تجارتی معاہدے کی وجہ سے یورپی یونین کی جی ڈی پی میں 0.1 فیصد کمی آئے گی. انسٹی ٹیوٹ کے سینٹر فار ٹریڈ پالیسی ریسرچ کی ڈائریکٹر جولین ہنٹز کا ماننا ہے کہ 15 فیصد ٹیرف کا معاہدہ بھی "ڈبلیو ٹی او کے اختیارات کو کمزور کرنے کی قیمت پر ہے اور یہ طویل مدتی لحاظ سے غلط سمت ثابت ہوگا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ یورپی یونین کینیڈا، میکسیکو، برازیل اور جنوبی کوریا جیسے ہم خیال ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرے تاکہ امریکا کا تنہا سامنا کرنے سے گریز کیا جائے۔
فن لینڈ کے وزیر برائے تجارت و ترقی ویل ٹیویو نے 27 جولائی کو کہا کہ ٹیرف کی شرح اب بھی زیادہ ہے اور یہ شاید بہت زیادہ پائیدار نہیں ہوگا۔ یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے صدر برنڈ لینگ نےمعاہدے پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ یہ ایک متعصبانہ معاہدہ ہے جو یورپ کے بنیادی مفاد میں نہیں ہے۔ برنڈ لینگ نے کہا کہ یورپی کمیشن کی امریکہ میں اضافی 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر خریداری کا عزم یورپ میں مقامی روزگار اور صنعتی ترقی کے لئے سازگار نہیں ہے۔