• صفحہ اول>>دنیا

    چین کا عالمی برادری سے مسئلہ فلسطین کے لئے "دو ریاستی حل" کے نفاذ کے عملی اقدامات کا مطالبہ

    (CRI)2025-07-30

    مقامی وقت کے مطابق 29 جولائی کو اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور "دو ریاستی حل" کے نفاذ سے متعلق اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس جاری رہی۔ مشرق وسطیٰ کے لیے چینی حکومت کے خصوصی ایلچی زائی جون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ 'دو ریاستی حل' کے نفاذ کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ چین نے نشاندہی کی کہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد ہی مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ غزہ کی حیثیت میں کسی بھی جبری تبدیلی اور مغربی کنارے کی زمین پر قبضے سے امن قائم نہیں ہوگا۔ موجودہ ہنگامی صورتحال میں ضروری ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کو فروغ دیا جائے، انسانی بحران کو کم کیا جائے اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے حقیقت پسندانہ حالات پیدا کیے جائیں۔ چین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسے "فلسطینوں کے ہاتھوں فلسطین کی حکمرانی" کے اصول کے مطابق غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کی حکمرانی کو فروغ دینا چاہئے۔

    ادھر برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے 29 تاریخ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں ہولناک صورتحال کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے اور طویل مدتی پائیدار امن کے حصول کا عزم نہیں کیا تو برطانیہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاح سے قبل فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کو غزہ کی پٹی میں قحط کے خاتمے کے لئے انسانی امداد بحال کرنے کی جلد از جلد اجازت دے، جنگ بندی پر اتفاق کرے اور یہ واضح کرے کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینی علاقے کو ضم نہیں کرے گا۔ اس سے قبل برطانوی میڈیا نے خبر دی تھی کہ 200 سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم اسٹارمر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔

    ویڈیوز

    زبان