4 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)30 جولائی کو منعقدہ پریس کانفرنس میں چین کی وزارتِ خزانہ نے اعلان کیاکہ رواں سال چین کے مرکزی بجٹ میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے سبسڈی کے اجرا میں معاونت کے لیے 90 ارب یوان (تقریباً 12.6 ارب امریکی ڈالر) مختص کیے جائیں گے ۔ وزارت خزانہ کے اہلکار گو یانگ کے مطابق ، یہ فنڈ جو مرکزی بجٹ سے ایک ٹرانسفر پیمنٹ ہے، مقامی حکومتوں کو سبسڈی جاری کرنے میں معاونت فراہم کرے گا اور تقسیم کردہ کل رقم کےتقریباً 90 فیصد کا احاطہ کرے گا۔
یہ اقدام ، ملک بھر میں بچوں کی دیکھ بھال کے حالیہ سبسڈی پروگرام کے آغاز کے بعد کیا گیا ہے جس کے تحت تین سال کی عمر سے کم ہر بچے کے لیے 3,600 یوان سالانہ مقرر کیے گئے ہیں ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے ہر سال 20 ملین سے زائد خاندان مستفید ہوں گے۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن (NHC) کے اہلکار وانگ ہائی دونگ کے مطابق، اگست کے آخر میں پورے ملک میں سبسڈی کی درخواستوں کا بتدریج آغاز کیا جائے گا اور توقع ہے کہ 31 اگست تک مکمل رسائی ممکن ہو جائے گی۔
چائلڈ کیئر سبسڈی تک آسان رسائی
پریس کانفرنس میں وانگ ہائی دونگ نے بتایا کہ ،اس سبسڈی کے حصول کے لیے ایک متحدہ قومی معلوماتی نظام کے ذریعے آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے،یعنی گھر بیٹھے بیٹھے ہی درخواستیں جمع کروا ئی جا سکتی ہے تاہم ، آف لائن چینلز اور انفرادی خدمات بھی مہیا ہوں گی ۔جو لوگ کسی بھی وجہ سے آن لائن درخواست نہیں دے سکتے، وہ جس ٹاؤن شپ یا سب ڈسٹرکٹ آفس میں نوزائیدہ کا اندراج ہوا ہو ، وہاں جا کر درخواست دے سکتے ہیں ۔
انہوں نے درخواست کے عمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ، درخواست کے عمل کو آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کروائے گئے ہیں۔ درخواست دہندگان کو نوزائیدہ کی شناخت اور دیکھ بھال کرنے والے سے تعلق کی تصدیق پر مبنی چند ضروری دستاویزات جمع کروانی ہوں گی جیسے کہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ اور گھرانے کی رجسٹریشن کا کتابچہ۔درخواست کے لیے وسیع پیمانے پر چینلز بھی دستیاب ہوں گے، جن میں صوبائی حکومت کی سطح کے سروسز پلیٹ فارم اور تھرڈپارٹی پلیٹ فارم جیسے علی پے اور وی چیٹ شامل ہیں۔ یہ عام استعمال ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے آسانی سے موبائل فون کے ذریعے آن لائن رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن کی نائب سربراہ گو یان ہونگ کے مطابق تمام بچے ، خواہ وہ شہر میں رہتے ہوں یا دیہی علاقوں میں، ان کی قومیت یا علاقہ جو بھی ہو یا وہ خاندان کے پہلے، دوسرے یا تیسرے بچے ہوں ، یہ سبسڈی تمام بچوں کے لیے ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سبسڈی کا معیار بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات اور مالی حیثیت جیسے عوامل کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے اور بین الاقوامی طریقوں سے بھی رہنمائی لی گئی ہے کیونکہ عالمی سطح پر براہ راست مالی مدد ، زچگی کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک پالیسی ٹول ہے۔ چین میں، کچھ مقامی حکومتوں نے اسی طرح کے آزمائشی پروگرامز اپنائے ہیں اور انہیں عوام نے خوش دلی سے قبول کیا ہے۔
برتھ فرینڈلی پالیسیز کی توسیع
پریس کانفرنس میں چین کی آل چائنا فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کے ویمن ورکرز ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ، لیو ہونگ می کا کہنا تھا کہ چین نے کام کرنے والی خواتین کے حقوق زچگی کے تحفظ کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔2022 سے 2024 تک، تنظیم نے کام کی جگہ پر بچوں کی دیکھ بھال میں آضافے کے لیے 22.5 ملین یوان کی ایمپلائر سبسڈی مختص کی، جس سے ملازمت پیشہ والدین کے لیے یہ خدمات زیادہ سستی اور مزید قابلِ دسترس ہوگئی ہیں۔