نانجنگ قتل عام پر مبنی فلم "ڈیڈ ٹو رائٹس" چین کے باکس آفس پر چھا گئی ہے اور صرف آٹھ دنوں میں اس نے 1 بلین یوآن (تقریباً 140 ملین امریکی ڈالر) سے زیادہ کمائے ہیں۔
ہدایت کار شین آؤ کی یہ فلم موسمِ بہار کی تعطیلات کے بعد ریلیز ہونے والی پہلی فلم ہے جس نےباکس آفس پر اس سنگ میل کو کامیابی سے عبور کیاہے۔ 25 جولائی ریلیز ہونے والی یہ فلم اب تک چینی باکس آفس میں اپنی برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔جمعے تک یہ فلم چائینیز مین لینڈ کے صوبائی سطح کے تمام علاقوں میں باکس آفس چارٹس میں پانچ دن تک سرفہرست رہی ۔ اس کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ اب تک، 30 ملین سے زائد لوگ اسے دیکھ چکے ہیں ۔
"ڈیڈ ٹو رائٹس" نانجنگ قتل عام کے دوران جاپان کے جنگی مظالم کے مصدقہ تصویری شواہد پر مبنی ہے۔ یہ کہانی چینی شہریوں کے ایک ایسے گروپ کی ہے جو جارح جاپانیوں کے غاصبانہ قبضے کے دوران فوٹوگرافی اسٹوڈیو میں پناہ لیتے ہیں۔ زندگی بچانے کی ایک آخری کوشش کے طور پر وہ مجبوراً ایک فلم کی تیاری میں جاپانی فوجی فوٹوگرافر کی مدد پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اس دوران انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان نیگیٹو ز میں جاپانی افواج کےشہر میں کیے گئے مظالم کے ثبوت موجود ہیں، سچائی کو بے نقاب کرنے کے عزم کے ساتھ، وہ خفیہ طور پر نیگیٹو زکو اپنے پاس چھپا لیتے ہیں اور اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انہیں بیرونی دنیا تک پہنچاتے ہیں۔
فلم کے ہدایت کار شین آؤ کا کہنا ہےکہ تصاویر عام طور پر زندگی کے سب سے قیمتی لمحات کو محفوظ کرتی ہیں ایک تصویر پورے خاندان کی یادوں کو سمیٹ سکتی ہیں لیکن نانجنگ کے قتل عام کے دوران، جاپانی افواج نے فوٹوگرافی کو پروپیگنڈے کا ہتھیار بنایا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے فلم سٹوڈیو میں وہ تمام جرائم محفوظ ہیں جنہیں انہوں نے مٹانے کی کوشش کی، یہ وہ سچائیاں ہیں جنہیں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جاپانی جنگی مظالم کے فوٹوگرافی ریکارڈز کیسے سلامت رہ گئے ،تو اس فلم کا مقصد یہی دکھانا ہے کہ چینی شہری ان ہوش ربا شواہد کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جان پر کھیل گئے تھے۔
"فلمی تجزیے اور ریٹنگ کی ویب سائیٹ دوبان پر اب تک اس فلم کی ریٹنگ 10 میں سے 8.6 ہے۔ویب سائیٹ پر موجود تبصرے میں کہا گیا ہے کہ کہانی سنانے کا انداز سادہ اور ہر منظر دل کو چھو لینے والا ہے۔ چند تصاویر ،جیسے کہ ایک بچے کے سامنے چاقو، لڑھکتےہوئے سر، خون کے سرخ دریا ، یہ سب خوف کے ماحول کو بیان کرنے کے لیے کافی ہیں ،فلم میں سنسنی خیزی ڈالی نہیں گئی ، یہ ہولناک تصاویر خوف و ہیبت کی تمام کہانی خود سناتی ہیں۔
ایک ناظر نے اسکریننگ کے بعد دل کو چھو لینے والے لمحے کا ذکر کیا کہ جب ایک نوجوان لڑکی نے اپنی ماں سے پوچھا کہ کیا کوئی "پوسٹ کریڈٹ مناظر" ہیں۔ ماں نے جواب دیا ، "حقیقی زندگی میں 'پوسٹ کریڈٹ منظر' اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم سنیما سے باہر نکلتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ ، زندگی سے بھرپور گلیاں، ہنستے مسکراتے لوگ، فضا میں لذیذ کھانوں کی خوشبو ، یہ حقیقی زندگی کے معجزے ہیں۔ یہ احساس فلم کے اس گہرے پیغام کو بیان کرتا ہے کہ جدید چین کے امن اور زندگی کی قدر کریں کیونکہ یہ سب ماضی میں دی گئی قربانیوں کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔
معروف ہدایتکار فینگ شیاوننگ نے اس فلم کو چینی سنیما کے لیے "نیا عروج" قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فلم ختم ہوئی، تو جب تک سکرین پر مکمل کریڈٹس نہیں چل گئے ، تمام ناظرین خاموش ، بے حس و حرکت بیٹھے رہے وہ سب جیسے کسی گہری سوچ میں گم تھے ۔انہوں نے کہا کہ چین، اور دنیا میں ہر ضمیر رکھنے والا شخص یقیناً اس فلم سے متاثر ہوگا۔
تازہ ترین اندازوں کے مطابق ، "ڈیڈ ٹو رائٹس" سے4 ارب یوان سے زیادہ کی کل آمدن متوقع ہے،یہ سابقہ اندازوں سے زیادہ ہے ۔ اگر ایسا ہو اتو یہ رواں سال میں اب تک بلاک بسٹر "نہ جھا 2" کے بعد چین کی دوسری سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بن جائے گی۔