5 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شی زانگ خود اختیار علاقے کے شہر شن نان کی ٹسو مئے کاونٹی کے وسیع میدانوں پر مشتمل قصبے چھیگو کی فضاوں میں کپڑا بننے کی روایتی کھڈیوں کی آواز کا سرتال گونجتا ہے ۔ یہ آوازیں بھرپور مقامی ورثے کی ورکشاپس سے یہاں کے ماحول میں پھیلتی ہیں۔ سطحِ مرتفع تبت کا ہاتھ سے بنا ہوا مخصوص موٹا کپڑا ، "پولو ""( pulu) یہاں کے مقامی ملبوسات کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ چازا گاؤں میں، جو ایک انتہائی بلند چراگاہوں کا علاقہ ہے، اس کی اوسط بلندی 4,600 میٹر ہے اور یہاں یہ کپڑا ایک منفرد صورت اختیار کرتا ہے اور خاص چاگانا لباس بنتا ہے۔
واضح جوڑ اور ٹانکے ، سخت کھڑے کالر، چمکیلےکنارے والے آستین، اور لباس پر ٹانکے گئے زیور ات ہر قدم پر جھنکار کرتے ہیں، چاگانا لباس کی پہچان ہیں۔ اس لباس کا ہر جوڑ اور ٹانکا ایک کہانی سناتا ہے۔ ایک کہانی شہزادی وین چنگ کی ہے کہ جو چاگانا کی چراگاہوں سے گزر رہی تھی تو مقامی لوگوں کے ساتھ جشن منانے کو رکی،لوگ اسے پہچان نہ لیں اس لیے اس نے اپنی پوشاک الٹا کر پہن لی ۔ دیہاتیوں کو یہ انداز بھا گیا اور انہوں نے اس کی نقل کی، وقت کے ساتھ ساتھ یہ انداز جس میں جوڑ اور سلائی واضح نظر آتی ہے ، ایک علامتی رجحان میں تبدیل ہو گیا اور ایک "غلطی" مقامی رواج میں بدل گئی۔
اس منفرد فن کو محفوظ رکھنے کے لیے، ٹسو مئے کاؤنٹی نے 2012 میں چاگانا اٹائیر کوآپریٹو کے قیام میں سرمایہ کاری کی، اور 2015 میں ایک مخصوص تربیتی مرکز باضابطہ طور پر مکمل کر لیا گیا ۔ یہ سٹوڈیو ،ثقافتی تحفظ اور متعلقہ صنعتوں کی ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔ اس سٹوڈیو میں اس مخصوص فن پر کام کرنمے والے گوانگ ٹنڈار، جنہیں 2018 میں قومی سطح اس غیر مادی ثقافتی ورثے کا وارث تسلیم کیا گیااس لباس کی تیاری کے مراحل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ چاگانا کو تیار کرنے میں تقریباً دو ماہ لگتے ہیں اور یہ لباس دھاگہ کاتنے ، بُنائی کرنے ، رنگناور ٹکڑوں کی ان کے مخصوص دو طرفہ نمونوں میں سلائی کرنے سمیت ایک درجن سےزائد مراحل سے گزر کر تیار ہوتا ہے۔
2019 اور 2024 میں حکومتی معاونت سے چلنے والے تربیتی پروگرامز میں خصوصی ورکشاپس کا انعقاد کرتے ہوئے دیہاتیوں کو بُنائی اور رنگائی کی روایتی تکنیکیں سکھائی گئیں جس سے اس فن میں ایک نئی جان پڑی ۔ آج، درجنوں دیہاتی اپنے فارغ وقت میں اور کچھ تو مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے پولو بُن رہے ہیں ۔ ایک مقامی کوآپریٹو سوسائٹی بُنے ہوئے کپڑے کو 1,300 سے 1,500 یوان فی رول کے حساب سےخریدتی ہے، جو آمدن کا ایک بہت بڑا تو نہیں لیکن اہم ذریعہ ہے۔ تاہم، ایسی جدید سلائی کی مہارت حاصل کر چکے ہیں جو چاگانا کے مکمل سیٹ کی تیاری کے لیے درکار ضروری مہارت صرف تین افراد کو حاصل ہے ، ایک گوانگ ٹنڈار اور دو ان کے شاگرد۔ چونکہ اس لباس کی تیاری کا ہر مرحلہ ہاتھ سے مکمل کیا جاتا ہے اس لیے ہر سال صرف پانچ سے چھ سیٹ تیار کیے جاتے ہیں جن میں سے زیادہ تر لھاسا اور بیجنگ کے عجائب گھروں میں رکھے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لباس نایاب بھی ہے اور کم یاب بھی ۔
27 جولائی 2025 ۔ شی زانگ خود اختیار علاقے کے شہر شن نان کی ٹسو مئے کاونٹی کے قصبے چھیگو کے گاوں جازا میں چاگانالباس کی ترسیل کا ادارہ ۔ (چانگ آندی /گوانگ منگ آن لائن)
27 جولائی 2025 ۔ گوانگ ٹنڈار گوانگ منگ آن لائن کی رپورٹر کے ساتھ انٹرویو میں غیر مادی ثقافی ورثے کے قومی سطح کے وارث قرار دئیے جانے کی دستاویز دکھا رہے ہیں۔ (چانگ آندی /گوانگ منگ آن لائن)
27 جولائی 2025 ۔ گوانگ ٹنڈار کھڈی پر "پولو "( pulu) بُن رہے ہیں (چانگ آندی /گوانگ منگ آن لائن)
27 جولائی 2025 ۔ گوانگ ٹنڈار کھڈی پر "پولو "( pulu) بُننے میں مصروف ہیں ۔ (چانگ آندی /گوانگ منگ آن لائن)
27 جولائی 2025 ۔ ایک مقامی خاتون کھڈی پر "پولو "( pulu) بُن رہی ہیں ۔ (چانگ آندی /گوانگ منگ آن لائن)
27 جولائی 2025 ۔ چاگانالباس کے آرائشی زیورات ۔ (چانگ آندی /گوانگ منگ آن لائن)
27 جولائی 2025۔ چاگانا میں ملبوس رپورٹر (چانگ آندی /گوانگ منگ آن لائن)
27 جولائی 2025۔ چاگانا کے دلکش لباس میں ملبوس رپورٹر (چانگ آندی /گوانگ منگ آن لائن)