بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ سانائے تاکایئچی کے غلط بیانات نے "تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں" کو غلط اشارہ بھیجا اور سرخ لکیر کو عبور کیا ہے ، اور چین کو اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
نکاراگوا کے وزیر خارجہ ڈینس مونکاڈا نے کہا کہ نکاراگوا ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے عمل پیرا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تائیوان چین کی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے۔انفرادی ممالک بحران پیدا کرنے اور بین الاقوامی سطح پر چین کی ترقی کے رجحان کو روکنے کے لیے تائیوان کے مسئلے کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین کو اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ زامبیا کے سابق رکن پارلیمنٹ مابیتا چیتارا نے کہا کہ سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات نے نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی بلکہ "تائیوان کی علیحدگی پسند قوتوں" کو بھی غلط اشارہ دیا۔جاپانی وزیر اعظم کے غلط بیانات سرخ لکیر کو عبور کرتے ہیں۔ نائیجیریا کے اسکالر راوا سیلے کا خیال ہے کہ سانائے تاکائیچی نے تائیوان کے معاملے کو بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے چین کے خلاف فوجی کارروائی کے اشتعال انگیز بیانات دیے ، جب کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔ نکاراگوا کے رکن پارلیمان ولفرڈو ناوارو نے کہا کہ اقوام متحدہ میں واضح قرارداد موجود ہے جو اس حقیقت کی مکمل توثیق کرتی ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔ یہ حقیقت بین الاقوامی برادری میں تسلیم شدہ ہے۔ جاپانی وزیر اعظم کے یہ بیانات بالکل بے بنیاد ہیں۔



