• صفحہ اول>>کاروبار

    چین کے صوبے گوئی جو کا وہ  جنگلی پھل جس سے  10 ارب یوآن کی صنعت تشکیل پائی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-12-18

    چین کے صوبہ گوئی جو کی ڈسٹرکٹ شوئی چھنگ  میں اگنے والے  روزا روکس برگ کے پھل ۔ (تصویر بشکریہ: شعبہ تشہیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا  شوئی چھنگ  ڈسٹرکٹ کمیٹی )

    چین کے صوبہ گوئی جو کی ڈسٹرکٹ شوئی چھنگ میں اگنے والے روزا روکس برگ کے پھل ۔ (تصویر بشکریہ: شعبہ تشہیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا شوئی چھنگ ڈسٹرکٹ کمیٹی )

    18دسمبر(پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے صوبہ گوئی جو کے پہاڑی علاقوں میں اگنے والے روزا روکس برگ نامی جنگلی پھل نے چند ہی برسوں میں اس علاقے کے لیے معاشی ترقی کی ایک حیران کن کہانی رقم کر دی ہے۔ روزا روکس برگ قدرتی طور پر کانٹوں سے بھرا پھل ہے اور چینی میں اسے "کانٹوں والی ناشپاتی"بھی کہا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سنہری رنگت والا یہ مقامی پھل ایک بڑی تجارتی کامیابی کے طور پر ابھرا ہے، اسے مشروبات، پیسٹری اور دیگر مصنوعات میں پروسیس کیا جا رہا ہے اور وہ پھل جو کبھی نظر انداز کر دیا جاتا تھا، چند ہی سال میں 10 ارب یوآن یعنی کہ تقریباً 1.4 ارب ڈالر کی صنعت میں تبدیل ہو گیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ شوئی چھنگ کا قصبہ، یی جونگ چونے کے پتھر کی چٹانوں کے باعث، جغرافیائی طور پر ایک طویل عرصے سے کھیتی باڑی کے حوالے سے مسائل کا شکار رہا ۔ اس قصبے کے فاریسٹری سٹیشن کے سربراہ تھانگ جونگ گوانگ کہتےہیں کہ پتھریلی اور بنجر ہونے کے قریب اس زمین پر فصل اگانے میں ہونے والی بار بار کی ناکامی بے حد قدر مایوس کن تھی۔مقامی حکومت نے اخروٹ کے درخت اور دیگر نقد آور فصلیں لگانے کی کوششیں کیں، مگر علاقے کی ماحولیاتی صورت حال کے باعث اکثر منصوبے ناکام رہے۔ متعدد بار کی اس ناکامی نے مایوسی کو جنم دیا اور کئی دیہاتی اپنی زمینیں چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں باہر نکل گئے۔ اس دوران پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر جنگلی روزا روکس برگ بدستور اگتا رہا، مگر اس کی قدر کسی کے بھی علم میں نہیں تھی۔

    اس صورت حال میں تبدیلی 2013 کی موسم خزاں میں آئی، جب یے جونگ گاؤں کے پارٹی چیف تھانگ فا کھائی نے صوبائی دارالحکومت گوئی یانگ میں دکانداروں کو خشک روزا روکس برگ 40 یوآن فی کلو کے حساب سے فروخت کرتے دیکھا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلاکہ یہ خشک پھل اسی صوبے کے چیئن نان بویی اور میاؤ خوداختیار پریفیکچر کی لونگ لی کاؤنٹی سے آ رہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اگلے ہی سیزن میں ایک درجن دیہاتیوں کے ساتھ وہاں کا دورہ کیا تاکہ کاشت کے طریقے سیکھے جا سکیں۔ یہ کوشش شوئی چھنگ کے ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں سے بھی مطابقت رکھتی تھیں، کیونکہ اس وقت ڈسٹرکٹ کی جانب سے روزا روکس برگ کی صنعت کے فروغ کے قابل عمل ہونے کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ روزا روکس برگ نہ صرف پتھریلے بنجر پن سے نمٹنے کے لیے موزوں ہے بلکہ اس کے پھل میں غذائیت بھی زیادہ ہے اور تجارتی امکانات بھی مضبوط ہیں۔ تھانگ جونگ گوانگ کہتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ ایسی بنجر پہاڑی زمین پر اگنے والا جنگلی پھل اتنی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

    2015 سے ڈسٹرکٹ شوئی چھنگ نے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے روزا روکس برگ کی کاشت کو ایک خصوصی صنعت کے طور پر ترجیح دینا شروع کر دی اور یے جونگ گاؤں میں تقریباً 133.33 ہیکٹر پر اس کو کاشت کیا گیا۔

    روزا روکس برگ کی، کاشت سے پھل دینے تک کی مدت تقریباً تین سال پر محیط ہوتی ہے۔ تھانگ جونگ گوانگ کے مطابق، کاشت کے لیے بہترین اقسام کے انتخاب پر توجہ دی گئی اور اہم مراحل میں مسلسل تکنیکی معاونت فراہم کی گئی ۔ کاشت کو کامیاب بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ نے مختلف سطحوں کے جنگلات و زرعی محکموں، جامعات اور نجی اداروں کے تحقیقی وسائل کو یکجا کیا، کسانوں کی منظم تربیت کی گئی اور تکنیکی عملے کو موقع پر رہنمائی کے لیے بھیجا گیا۔

    جوں جوں تربیتی پروگرام بڑھے، کسان بنیادی تکنیکوں میں ماہر ہوتے گئے۔ ڈسٹرکٹ نے ان ہنرمند کاشت کاروں اور مقامی ماہرین کے ساتھ مل کر نمونے کے باغات قائم کیے اور کسانوں کو معیاری کاشت و دیکھ بھال کی طرف لایا گیا ۔ یوں بنجر پہاڑیاں آہستہ آہستہ سرسبز ہونے لگیں اور آج اس ڈسٹرکٹ میں جنگلات کے رقبے کی شرح 63.55 فیصد سے زائد ہو چکی ہے۔

    2018 میں ضلع نے گوئی جو چھو ہاو ایگریکلچرل ٹیکنالوجی ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ قائم کی۔کمپنی نے اپنے ریسرچ سینٹر کی بنیاد پر چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جیوکیمسٹری، چائنا ایگریکلچرل یونیورسٹی اور گوئی جو یونیورسٹی جیسے اداروں کے ساتھ مل کر نئی مصنوعات تیار کیں۔ کمپنی کے ریسرچ سینٹر کی ڈائریکٹر وانگ شِن یِنگ کی قیادت میں ٹیم نے روزا روکس برگ سپارکلنگ واٹر سمیت 20 سے زائد کمرشل مصنوعات تیار کیں اور 26 پیٹنٹس حاصل کیے۔

    چھین کے مطابق 2024 میں کمپنی نے 8,500 ٹن سے زائد تازہ روزا روکس برگ خریدا، جس سے کسانوں کی آمدنی میں 51 ملین یوآن سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ کمپنی کی مصنوعات اب ملک بھر کی مارکیٹس تک پہنچ رہی ہیں اور اسے بین الاقوامی سطح پر پھیلانے کا کام بھی جاری ہے۔

    ویڈیوز

    زبان