• صفحہ اول>>کاروبار

    چین کی ترقی کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس سے ڈرنا چاہیے: جیفری ساکس

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-12-19

    16 دسمبر 2025 ۔سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں ہونے والی بات چیت کے دوران امریکی معیشت دان جیفری ساکس ۔ (شنہوا)

    16 دسمبر 2025 ۔سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں ہونے والی بات چیت کے دوران امریکی معیشت دان جیفری ساکس ۔ (شنہوا)

    19 دسمبر (پیلز ڈیلی آن لائن ) حالیہ دنوں ، سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں ہونے والی بات چیت کے دوران معروف امریکی معیشت دان اورکولمبیا یونیورسٹی میں مرکز برائے پائیدار ترقی کے ڈائریکٹر جیفری ساکس نے کہا کہ عالمی معیشت کوئی "زیرو سم گیم" نہیں ہے، چین کی ترقی کو ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے نہ کہ اسے خطرے کے طور پر دیکھا جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو علاقائی تعاون کے ذریعے مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ زندگی کا یہ تصور کہ 'یا تو وہ ہیں یا ہم' ہے، بالکل غلط ہے۔جدید اقتصادی خوشحالی کا انحصار محدود وسائل پر مقابلہ کرنے پر نہیں ہے بلکہ ٹیکنالوجی، مہارتوں اور مؤثر گورننس پر ہے۔

    چین کے ترقیاتی ماڈل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کا تجربہ ،عالمی گورننس لیے اہم سیکھ فراہم کرتا ہے۔ چینی حکومت نے پانچ اور دس سال کی مدت کے دوران منظم منصوبہ بندی کے ذریعے، اہم شعبوں، صنعتوں اور ٹیکنالوجیز کے لیے تفصیلی حکمت عملی وضع کی ، جس کی بدولت ابھرتے ہوئے شعبوں میں چین سرکردہ ملک بن گیا ہے۔یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ طویل مدتی منصوبہ بندی اور مستقل سرمایہ کاری کس طرح دوسرے ممالک کو نقصان پہنچائے بغیر ، اقتصادی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے ۔

    ان کاکہنا تھا کہ چین کو دشمن کے طور پر پیش کرنے والی باتیں اکثر ان لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہیں جنہوں نے کبھی اس ملک کا دورہ ہی نہیں کیا۔ انہوں نے امریکی کانگریس کو صلاح دیتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ حاصل کریں، دنیا کو دیکھیں اور جانیں کہ حقیقت میں چیزیں کیسی ہیں۔

    مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دنیا کو تصادم کی بجائے تعاون کی طرف بڑھنا چاہیے۔ دنیا آپس میں منسلک ایسےعلاقوں پر مشتمل ہو سکتی ہے جہاں ہر ایک کے لیےہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے خوشحالی اور سلامتی کا حصول ممکن ہو ۔ یہ طرز عمل ، جغرافیائی مسابقت یا یکطرفہ غلبے پر مبنی ماڈلز کے مقابلے میں کہیں زیادہ پائیدار ہے، اور تمام فریقوں کی ترقی کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔

    ویڈیوز

    زبان