24 دسمبر کو ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ 23 تاریخ کو امریکی بحریہ کی حملہ آور جوہری آبدوز ، عملے کے آرام اور فوجی سامان کی سپلائی کے بہانے جنوبی کوریا کے بوسان آپریشنل بیس میں داخل ہوئی۔ اس سے قبل7 نومبر کو امریکی بحریہ کا یو ایس ایس جارج واشنگٹن جوہری طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز جنوبی کوریا میں داخل ہوا تھا۔ 46 دنوں کے بعد امریکی اسٹریٹجک اثاثوں کا دوبارہ ظاہر ہونا ایک ایسا عمل ہے جو جزیرہ نما کوریا اور خطے میں فوجی کشیدگی اور عدم استحکام کو بڑھاتا ہے۔ شمالی کوریا امریکی جوہری ہتھیاروں کی دھمکی کے سامنے جوابی اقدامات پر غور کرے گا، اور اس پر عمل درآمد کے طریقے اور وقت کا انتخاب متناسب اور غیر متناسب اصولوں پر کرے گا ۔
اسی روز شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے نئے فضائی دفاعی میزائل کا تجربہ کیا جسے وہ خود تیار کر رہا ہے۔ شمالی کوریا نے کہا کہ یہ تجربہ، اس کے اونچائی پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی میزائل سسٹم کا پہلا تکنیکی جائزہ تھا۔ ورکرز پارٹی آف کوریا کے جنرل سیکرٹری اور ریاستی امور کمیشن کے چیئرمین کم جونگ اُن نے ٹیسٹ لانچ کا مشاہدہ کیا اور کامیاب تجربے پر مبارکباد دی۔



