31دسمبر (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے اعلی صنعتوں کے نگران ادارے کے مطابق، 2026 میں ملک کی صنعتی معیشت کی مستحکم ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے مستقبل کی ابھرتی ہوئی صنعتوں کو فروغ دینے کی کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔ بیجنگ میں منعقدہ وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سالانہ قومی ورک کانفرنس میں 10 ترجیحی کاموں کی نشاندہی کی گئی، جن کا مرکزی نکتہ نئے ترقیاتی محرکات پیدا کرنا اور صنعتی نظام کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرنا ہے۔وزارت کے مطابق سال 2026 ، ملک کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (30- 2026) کے ایک مضبوط آغاز کی بنیاد رکھنے کے لحاظ سے نہایت اہم سال ہوگا ۔ ابھرتی ہوئی صنعتوں کے لیے جن شعبوں کو سٹریٹجک طور پر آگے بڑھانے کے لیے منتخب کیا گیا ہے ان میں انٹی گریٹڈ سرکٹس، نیو ڈسپلے، جدید مواد، ایرو سپیس، لو آلٹی ٹیوڈ اکانومی اور بایئومیڈیسن شامل ہیں۔ منصوبے میں مصنوعی ذہانت میں بریک تھرو کی حمایت اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ آف تھنگز جیسی نئی سروسز کو مرحلہ وار اور منظم انداز میں کمرشلائز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
صنعتی اختراع کی رفتار بڑھانے کی خاطر چین، ابھرتی ہوئی صنعتوں کے لیے قومی سطح کے اولین ڈیمونسٹریشن بیسز کا آغاز کرے گا اور مختلف انڈسٹریل کلسٹرز بھی قائم کرے گا۔ مستقبل کے شعبوں میں اہم چیلنجز کو حل کے لیے ٹاپ ٹیلنٹ پروگرامز کو آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ ایمباڈیڈ اے آئی اور میٹا ورس سے متعلق پالیسیز کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ کانفرنس کے مطابق 6جی ٹیکنالوجی کی تحقیق و ترقی کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود چین کے صنعتی شعبے نے لچک اور توانائی کا مظاہرہ کیا ہے اور معیار کے ساتھ ساتھ مقدار کے لحاظ سے بھی اس کی شرحِ نمو تسلی بخش رہی ہے۔ 2025 میں صنعتی معیشت مجموعی طور پر مستحکم رہی اور اندازہ ہے کہ سالانہ صنعتی پیداوار میں سال بہ سال 5.9 فیصد اضافہ ہوگا۔ 2025 میں چین کی ٹیلی کمیونی کیشن خدمات اور سافٹ ویئر بزنس کی آمدن میں بالترتیب تقریباً 9 فیصد اور 12 فیصد اضافہ متوقع ہے، جب کہ ڈیجیٹل صنعتوں کی آمدن میں بھی تقریباً 9 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
شنگھائی میونسپل کمیشن آف اکانومی اینڈ انفارمٹائزیشن کے سربراہ تھانگ وین کھان کے مطابق شنگھائی ، انٹی گریٹڈ سرکٹ کی پوری انڈسٹری چین میں اہم پیش رفت کے لیے بھرپور کوشش کرے گا، بائیوفرماسیوٹیکلز اور میڈیکل ڈیوائسز میں جدت و پیش رفت کی منظم منصوبہ بندی کرے گا، “اے آئی پلس” اقدام کو جامع انداز میں نافذ کرے گا اور عالمی معیار کے صنعتی کلسٹرز کے قیام کی رفتار تیز کرے گا۔ ہائی اینڈ آلات اور نئی توانائی کی انٹیلی جنٹ کنیکٹڈ گاڑیوں سمیت چھ ابھرتی ہوئی اہم صنعتوں کو بھی مکمل طور پر پروان چڑھائے گا نیز اداروں کو متوجہ کرنے کے لیے سازگار ماحول بنانے پر توجہ دے گا۔
ہانگ کانگ کی چائنیز یونیورسٹی (شینزن) کے اسکول آف پبلک پالیسی کے ڈائریکٹرجینگ یونگ نیان کا کہنا ہے کہ چین کے لیے ریئل اکانومی کی اہمیت کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ نقطۂ نظر بعض مغربی ممالک کے اس رجحان سے مختلف ہے جہاں مینوفیکچرنگ کی قیمت پر خدمات کے شعبے کی طرف حد سے زیادہ جھکاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
جینگ کے مطابق، چین کے پاس مکمل صنعتی نظام موجود ہے اور مستقبل میں اس کی مسابقت کا دارومدار سٹریٹجک صنعتی اپ گریڈیشن پر ہے۔ صنعتی اپ گریڈیشن کو وسیع طور پر دو انداز میں دیکھا جا سکتا ہے: ایک یہ کہ آج ٹیکسٹائل اور جوتے بنانے سے کل الیکٹرانکس بنانے کی طرف منتقل ہو جائیں؛ دوسرا یہ کہ ٹیکسٹائل اور جوتے بناتے رہیں مگر ان کی ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن بڑھا دیں۔ ان کے بقول تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کی اپ گریڈیشن یکساں طور پر اہم ہیں۔
اسی دوران جمعے کے روز ، چین نے ایڈوانسڈ روبوٹکس کے مستقبل کی سمت ایک اور قدم اٹھایا ہے ، اور بیجنگ میں ہیومینائیڈ روبوٹکس اور ایمباڈیڈ انٹیلی جنس کے لیے اسٹینڈرڈائزیشن ٹیکنیکل کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا ۔ یہ کمیٹی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت کام کرے گی ، اسے اس جدید شعبے میں صنعتی معیار تشکیل دینے اور ان میں ترمیم کے لیے ایک اہم قومی ادارہ قرار دیا جا رہا ہے۔




