
5 جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن) 4 جنوری کو بیجنگ میں منعقدہ ، چائنا سٹیٹ ریلوے گروپ کی سالانہ ورک کانفرنس میں گروپ کے صدر گو جو شوئے نے مستقبل کے اہداف اور اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ چین کا ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک پچھلے سال 50,000 کلومیٹر سے زیادہ وسیع ہوا ، جب کہ قومی ریلوے نظام نے تقریباً 4.26 ارب پیسنجر ٹرپس فراہم کیے۔
چودھویں پانچ سالہ منصوبے (2025-2021) کے دوران، ملک کے فعال ریلوے کا مائیلیج 146,300 کلومیٹر سے بڑھ کر 165,000 کلومیٹر ہوگیا، جو کہ 12.8 فیصد کا اضافہ ہے۔ ہائی سپیڈ ریلوے مائلیج تیزی سے بڑھا اور 33 فی صد اضافے کے بعد 37,900 کلومیٹر سے 50,400 کلومیٹر ہوگیا۔
گو جو شوئے کا کہنا تھا کہ چین نے دنیا کا سب سے بڑا اور جدید ترین ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک بنایا ہے اور اس کے ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک کی لمبائی تمام دوسرے ممالک کے مجموعی کل سے تجاوز کر چکی ہے۔2025 میں مسافروں کی تعداد نے نئی بلندیوں کو چھوا، قومی ریلوے نے 4.255 بلین پیسنجر ٹرپس فراہم کیے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 4.2 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ مسافر وں کا یومیہ حجم 23.13 ملین ٹرپس سےمتجاوز رہا اور یہ دونوں ہی ریکارڈ سطحیں ہیں۔
ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بھی پچھلے سال مضبوط رہی۔ فکسڈ اثاثوں کی سرمایہ کاری 901.5 بلین یوان (128.9 بلین ڈالر ) رہی، جو سال بہ سال 6 فیصد زیادہ ہے۔ 3,100 کلومیٹر سے زیادہ کی نئی ریلوے لائنز فعال کی گئیں، جن میں 2,862 کلومیٹر ہائی سپیڈ ریلوے شامل ہیں۔
کانفرنس میں، چائنا سٹیٹ ریلوے گروپ نے 2026 کے لیے مقرر کردہ اہداف بھی پیش کیے جن میں تقریباً 4.402 بلین پیسنجر ٹرپس کا زیادہ کو آسان بنانا ، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 3.5 فیصد کا اضافہ ہے اور 4.13 بلین میٹرک ٹن مال کی نقل و حمل کرنا شامل ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کا مقصد اس سال 2,000 کلومیٹر سے زیادہ نئی ریلوے لائنز کھولنا ہے۔
گو جو شوئے کے مطابق ، 2030 تک چین، اپنے مجموعی ریلوے نیٹ ورک کو تقریباً 180,000 کلومیٹر تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں تقریباً 60,000 کلومیٹر ہائی سپیڈ ریلوے شامل ہے۔
کانفرنس میں 2025 کے دوران ، غیر ملکی ریلوے منصوبوں اور بین الاقوامی لاجسٹکس میں ترقی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ چین–قرغزستان–ازبکستان ریلوے کی تعمیر کا آغاز ہوا جب کہ ہنگری–سربیا ریلوے کا سربیا سیکشن مکمل طور پر فعال ہو گیا۔ انڈونیشیا کی جکارتہ–بانڈونگ ہائی سپیڈ ریلوے پچھلے دو سالوں سے بہترین طریقے سے کام کر رہی ہے اور اس نے اب تک 13 ملین سے زیادہ پیسنجر ٹرپس فراہم کیے ہیں۔
بین الاقوامی مال برداری کی خدمات میں مسلسل اضافہ ہوا۔ چین کو وسط ایشیا اور یورپ سے ملانے والی مال بردار ریل گاڑیوں نے پچھلے سال تقریباً 34,000 سفر کیے، جس میں 3.17 ملین کنٹینرز کی ترسیل کی گئی۔ ان میں سے 20,000 سفر چین-یورپ مال بردار ریل گاڑیوں کے تھے۔ مغربی بری -بحری راہداری کے ساتھ خدمات نے 1.42 ملین کنٹینرز کا ناتظام کیا، جو سال بہ سال تقریباً 50 فیصد کا اضافہ ہے۔



