• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین کی لچکدار سولر سیلز میں بڑی پیش رفت

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-08

    8جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)5 جنوری کو چائنا سائنس ڈیلی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ، چینی محققین نے لچکدار سولر سیلز میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ چینی محققین نے لچکدار ٹینڈم سولر سیلز کی کارکردگی اور استحکام کے اہم چیلنجز کو حل کیا اور سلیکون پر مبنی لچکدار شمسی توانائی میں ایک سنگ میل عبور کیا ہے۔سوچھو یونیورسٹی کے محققین کی قیادت میں ہونے والی یہ تحقیق یکم جنوری کو معروف جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔

    اس وقت ، لچکدار کرسٹلین سلیکون/پیرووسکائٹ ٹینڈم سولر سیلز کی کمرشل ترقی کو دو بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے، ایک یہ کہ ان کی کارکردگی ابھی بھی سخت دھات والے آلات سے پیچھے ہے اور دوسرے یہ کہ ان کے انٹرفیس بار بار موڑنے یا سخت صورتِ حال میں تہہ در تہہ اور خراب ہونے کے حوالے سے بے حد حساس ہیں۔

    ان چیلنجز کا حل نکالنے کے لیے، تحقیقاتی ٹیم نے ایک دوہری تہہ والا بفر ڈیزائن کیا جس میں "لوز-ٹائیٹ" ڈھانچہ شامل ہے، جو ہم آہنگ انداز میں میکانیکی دباؤ کو ختم کرتا ہے جبکہ نینو سکیل پر موثر چارج کی منتقلی کو برقرار رکھتا ہے۔ان کامیابیوں نے ٹیم کو ایک انتہائی پتلی 60 مائیکرومیٹر سلیکون سبسٹریٹ پر تصدیق شدہ تبدیلی کی 33.6 فیصد کارکردگی حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے ، جس نے لچکدار ٹنڈم سیلز کے لیے کارکردگی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    اس کے علاوہ، ایک لارج -ایریا ڈیوائس (261 مربع سینٹی میٹر، معیاری ویفر سائز) نے 29.8 فیصد کی کارکردگی حاصل کی، جو کہ اس پیمانے کے لچکدار ٹنڈم سیلز کے لیے بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ ان آلات نے شاندار میکانیکی پائیداری کا مظاہرہ کیا اور 43,000 چکروں میں موڑے جانے کے بعد بھی اپنی ابتدائی کارکردگی کا 97 فیصد برقرار رکھا۔

    یہ کام بڑے پیمانے پر لچکدار فوٹو وولٹکس ایپلی کیشنز کے لیے ایک مضبوط سائنسی و تکنیکی بنیاد قائم کرتا ہے اور سلیکون پر مبنی شمسی صنعت کے لیے نئے مواقع کھولتا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان