• صفحہ اول>>چین پاکستان

    چین-پاکستان آہنی دوستی ، مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے۔ اسحاق ڈار

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-08

    8جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایک حالیہ انٹرویو میں پیپلز ڈیلی کے نمائندے کو بتایا کہ گزشتہ 75 برسوں میں پاکستان اور چین نے باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کی روایت کو مضبوطی سے برقرار رکھا ہے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے باوجود دونوں ممالک کی “آہنی دوستی” مزید گہری ہوئی ہے۔ ان کے مطابق 2026 پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال ہوگا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک بنیادی مفادات اور اہم امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کی بھرپور حمایت کرتے رہے ہیں، جبکہ معیشت اور صنعتی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کی قیادت کے طے کردہ اہم اتفاقِ رائے پر عملی طور پر مسلسل عمل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے دور میں پاک-چین مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔

    اسحاق ڈار کے مطابق سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، ایسے میں دونوں فریق "عوامی فلاح کی راہداری"کی تعمیر پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی بنیادی صنعتوں میں سے ایک ہےاور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کی کمپنیز نے مرچ، ریپ سیڈ (سرسوں/کینولا) اور تل جیسی فصلوں میں تعاون کے اچھے نتائج حاصل کیے ہیں، جبکہ پاکستان کی کئی زرعی مصنوعات کو چینی مارکیٹ تک رسائی ملی ہے۔ اسحاق ڈار کے بقول یہ پیش رفت پاکستانی کسانوں کے لیے علاقائی ویلیو چین میں شامل ہونے اور آمدن بڑھانے کے حوالے سے اہم ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ 2025 میں پاکستان نےچین میں ایک ہزار زرعی ماہرین کی تربیتی پروگرام شروع کیا، جس کے تحت تربیت کے لیے دو بیچ چین بھیجے گئے تاکہ وہ چین کی زرعی جدت کے تجربات کو سمجھیں اور منظم انداز میں جدید زرعی مہارتیں سیکھیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں دونوں ممالک سی پیک کے فریم ورک کے تحت زراعت کی پوری ویلیو چین میں تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں، جس سے پاکستان کی زراعت کی تبدیلی اور اپ گریڈیشن میں مدد ملے گی۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صنعت و ٹیکنالوجی میں پاکستان اور چین کے قریبی تعاون کے براہِ راست فوائد پاکستانی عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق چینی سولر فوٹو وولٹیک آلات، الیکٹرک گاڑیاں اور الیکٹرک موٹر سائیکل پاکستان کی مارکیٹ میں آ چکی ہیں، جس سے لوگوں کی روزمرہ زندگی اور کام میں آسانی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی کمپنیز نے پاکستان میں پیداواری یونٹس بھی قائم کیے ہیں، جو صنعتی اپ گریڈیشن کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کے بقول جن علاقوں میں انفراسٹرکچر کمزور اور توانائی کے اخراجات زیادہ ہیں، وہاں چین کی نئی توانائی کی ٹیکنالوجیز عوامی فلاح کے لیے نئی امیدیں پیدا کر رہی ہیں۔

    خلائی تعاون کے شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین مل کر اب تک نو سیٹلائٹس لانچ کر چکے ہیں، جن میں مواصلات، زمینی مشاہدہ، ریموٹ سینسنگ اور چاند سے متعلق مشنز جیسے کام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ رواں سال پاکستانی خلا باز چینی خلائی سٹیشن پر جائیں گے۔ چین-پاکستان خلائی تعاون میں ایک کے بعد ایک اہم کامیابی دونوں ممالک کے درمیان خلائی شعبے میں "بااعتماد، قابلِ بھروسہ اور دیرپا شراکت داری" کی عکاس ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کی معاشی ترقی کے امکانات وسیع ہیں۔ 2026 میں چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ہورہاہے اور چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور اعلیٰ سطحی کھلا پن دنیا بھر کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانےاور جدیدیت کے میدان میں چین کے تجربات سے سیکھنا چاہتا ہے۔

    عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پیچیدہ اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی ماحول میں صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کیے گئے چار انیشی ایٹوز کو عالمی برادری میں وسیع پذیرائی ملی ہے۔ ان کے بقول یہ انیشی ایٹوز آج دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز کے لیے دوراندیشی کے حامل حل پیش کرتے ہیں اور علاقائی و عالمی استحکام، طویل المدتی ترقی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ستمبر 2025 میں دونوں ممالک نے “نئے دور میں چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کا ایکشن پلان (2025-2029) جاری کیا تھا اور دونوں جانب سے اس پر عملی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین ہر موسم میں سٹریٹیجک تعاون کے شراکت دار ہیں اور پاکستان نے ہمیشہ چین کے بنیادی مفادات سے متعلہ امور پر اس کی غیر متزلزل حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ تائیوان چین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور پاکستان "ون چائنا پالیسی"پر مضبوطی سے قائم رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی مداخلت کی مخالفت کرنی چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی بڑھائیں یا باہمی اعتماد کو نقصان پہنچائیں۔ ان کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا، ترقی کو مرکز یت دینا اور ایک مستحکم ماحول تشکیل دینا ناگزیر ہے جو کہ ایشیا اور دنیا میں پائیدار امن، مشترکہ ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے سازگار بنیاد فراہم کرے گا۔

    ویڈیوز

    زبان