9جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)امریکی ٹیک اور بزنس میڈیا آؤٹ لیٹ بزنس انسائیڈر کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک کا کہنا ہے چین مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹنگ پاور میں باقی دنیا کے مقابلے میں تیزی سے سبقت لے جانے کی راہ پر گامزن ہے۔ چینی ماہرین کے مطابق ایلون مسک کے یہ تبصرے موجودہ صنعت کے رجحانات کی بنیاد پر ان کا ذاتی مشاہدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اے آئی کے سخت مقابلے میں چین کو توانائی کے انفراسٹرکچر میں واضح برتری حاصل ہے، جبکہ ملکی سطح پر چِپ سازی کی صلاحیتیں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
بزنس انسائیڈر کے مطابق ٹیسلا اور سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ،پیٹر ڈایمینڈس کی پوڈکاسٹ میں کہا کہ چین کے پاس دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قوت ہوگی اور غالباً زیادہ چِپس بھی ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ رجحانات کو دیکھا جائے تو چین ،اے آئی کمپیوٹنگ کے میدان میں باقی دنیا سے کہیں آگے نکل جائے گا۔
مسک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی ریس میں چین کی فیصلہ کن برتری اس کی بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے میں ہے اور چین 2026 تک امریکہ کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بجلی پیدا کرنے کی سطح تک پہنچ سکتا ہے، جس سے اے آئی ڈیٹا سینٹرز جن کو بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے ان کے لیے گنجائش بڑھ جائے گی۔ ان کے بقول اے آئی سسٹمز کو وسعت دینے میں اکثر بجلی کی دستیابی اصل رکاوٹ بن جاتی ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ اکنامک کوآپریشن کے سینیئر محقق چو می نے گلوبل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایلون مسک کی باتوں کو چین اور امریکا کا سادہ تقابلی جائزہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ تجزیہ ممکنہ طور پر ان رکاوٹوں سے بھی متاثر ہے جن کا سامنا مسک کو امریکہ میں اے آئی منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہوئے ہوا ہے۔ چو می کے مطابق امریکہ کے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی کی پابندیاں، بڑی ٹیک کمپنیز کا ایک ہی جگہ ہونا اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی غیر معمولی طلب یہ سب مل کر بعض منصوبوں کی مزید توسیع میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے بہت سے حلقے چین کی اے آئی اور دیگر ہائی ٹیک شعبوں میں بڑھتی صلاحیتوں کی بات کرتے ہیں، ویسے ہی واشنگٹن کی جانب سے ہائی ٹیک تجارت، خصوصاً چِپس پر پابندیوں اور محدود کرنے کی پالیسیز کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم بزنس انسائیڈر کے مطابق ایلون مسک نے اشارہ دیا کہ وقت کے ساتھ یہ رکاوٹیں شاید کم اہم ہو جائیں، کیونکہ چین، "چپس کا حل نکال لے گا۔"
اسی پس منظر میں چائنا سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین وی شاؤ جون نے گلوبل ٹائمز کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ چین کو اپنے آزادانہ چِپ ڈویلپمنٹ کے عمل کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق عالمی سطح کی سخت مقابلہ بازی نے چینی کمپنیز کو چِپ آرکیٹیکچر، ایڈوانسڈ پیکیجنگ و انٹی گریشن، اور ٹول ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں تیز تر پیش رفت کی جانب متوجہ کیا ہے۔ رپورٹ میں مورگن سٹینلے کی 2025 کی ایک تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق چین میں اے آئی جی پی یوز کی خود انحصاری کی شرح 2020 میں 10 فیصد سے کم تھی، جو 2024 میں تقریباً 34 فیصد تک پہنچ گئی اور اندازہ ہے کہ 2027 تک یہ شرح تقریباً 82 فیصد ہو سکتی ہے۔
شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت آٹھ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ حالیہ حکومتی ایکشن پلان کے تحت، چین کا ہدف 2027 تک اے آئی کی اہم بنیادی ٹیکنالوجیز کی محفوظ اور قابلِ اعتماد سپلائی کو یقینی بنانا اور اے آئی کو مینوفیکچرنگ میں مزید جامع انداز میں شامل کر کے نئی صنعتی ترقی کو آگے بڑھانا ہے ۔



