
9جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)یکم جنوری کو ،چھونگ چھنگ کی جونگ شیان کاؤنٹی میں دریائے یانگسی پر سرد اور دھند آلود ماحول میں، "یو جونگ کھے 2180" کے کپتان چن دایی نے منہ اندھیرے روانگی کی سیٹی بجائی اور آواز لگائی ،"کیا کوئی اور سواری ہے؟ ہم کچھ ہی دیر میں روانہ ہونے لگے ہیں۔"
افق پر روشنی کی ایک ہلکی سی لکیر نمودار ہوئی ہی تھی کہ انجن ایک انگڑائی لے کر گڑگڑایا اور یہ بڑی کشتی ، دھیرے دھیرے یانگدو کے پشتے سے دور ہونے لگی۔ آج اسے کشتی رانی کرتے ہوئے 30واں سال شروع ہو رہا تھا ، وہ کشتی جسے یہاں کے مقامی لوگ "باسکٹ فیری" کہتے ہیں۔
یانگدو سے کاؤنٹی کے صدر مقام تک دو گھنٹے کے اس سفر میں یہ 7 مقامات پر رکتی ہے اور نئے مسافر اس میں سوار ہوتے ہیں جن میں سے اکثریت بوڑھے کسانوں کی ہے۔ 65 سالہ فان چی لان بھی ایسے ہی ایک کسان ہیں جن کے بڑے سے ٹوکرے میں کنول کی جڑیں موجود ہیں جسے وہ شہر کے بازار میں بیچیں گے۔ کیبن کے اندر لکڑی کی بینچز ہیں جن پر 140 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ۔
ان بزرگوں کے لیے، فیری صرف نقل و حمل کا ہی نہیں بلکہ باہر کی دنیا سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہے، خاص طور پر ان کے لیے جن کے بچے دور دراز شہروں میں کام کرتے ہیں۔
چن دایی کہتے ہیں کہ صرف پیسے کمانے کی بات نہیں ہے ، بہت سے بزرگوں سے بات کرنے کے لیے گھر پر کوئی نہیں ہے۔ کشتی پر ان کا ایک سماجی حلقہ ہے جہاں یہ دوست باتیں کرتے اور اپنے دکھ درد بانٹتے ہیں ۔
اس کی سماجی اہمیت کے باوجود ،جب ایک دہائی پہلے، ایک نئی ہائی وے نے شہر کا سفر ایک گھنٹے سے بھی کم کر دیا تو کشتی میں سفر کرنے والے نوجوانوں کی تعداد کم ہو گئی اور صرف بوڑھے کسان ہی باقاعدگی کے ساتھ سفر کرتے رہے۔ چن دایی کے مطابق، دوطرفہ سفر پر ایندھن کی لاگت تقریباً 600 یوان (تقریباً 85 امریکی ڈالر) آتی ہے، لیکن وہ اپنے ان مسافروں سے دو طرفہ ٹکٹ کی مد میں صرف 12 یوان لیتا ہے جس سے صرف 400 یوان تک ہی بنتے ہیں لیکن پھر بھی اس نے کرایے میں اضافہ نہیں کیا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ یہ لوگ سبزی بیچ کر صرف 20 یوان یومیہ کما تے ہیں، اگر وہ قیمت بڑھا دے گا ، پھر تو وہ کسان شاید اپنا خرچ بھی نہیں نکال سکیں گے۔
چن دایی کے والد اور دادا بھی کپتان تھے، وہ پانی ہی پر بڑا ہوا اور اس کا گاؤں والوں کے ساتھ جیسے ایک "خاموش معاہدہ" اور ایک انجانا تعلق ہے ۔ اگر روزانہ سفر کرنے والا کوئی مسافر چند دن نہ آئے تو وہ فکر مند ہو جاتا ہے اور ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے فون کرتا ہے یا ان کے گھر جاتا ہے۔چند برس قبل، چن دایی کے بیٹے نے اس سوچ کے ساتھ فیری کے معمولات کو فلم بندکرنا شروع کیا کہ ان یادوں کو محفوظ کیا جا سکے کیونکہ اس علاقے میں دیگر کئی جہاز غیر فعال ہورہے تھے ۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب اسے علم ہوا کہ اس کی یہ ویڈیوز وائرل ہوگئی ہیں ۔
نیٹزیئن اس فیری میں سفر کرنے والے بزرگ افراد سے ایک انسیت محسوس کرنے لگے ۔جلد ہی، ڈیجیٹل کمیونٹی نے مدد کے لیے قدم بڑھایا۔ لائیو سٹریم سے ملنے والے عطیات سے اب ایندھن کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ فلاحی کام کرنے والے اور مخیر لوگوں نے بڑی تعداد میں فیری ٹکٹ خریدلیے تاکہ کسان مفت سفر کر سکیں اس کے علاوہ رضاکار صبح سویرے گرما گرم بن اور دلیے کا ناشتہ بھی عرشے پر پہنچاتے ہیں ۔

2024 میں، چن دایی نے کسانوں کی براہ راست مدد کے لیے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال شروع کیا۔ پچھلے سال دسمبر کی لائیو سٹریمنگ کے دوران 8,000 سے زیادہ مالٹوں کےآرڈر حاصل کیے گئے۔ حال ہی میں اس کے بیٹے نے اپنے مسافر جہاز کے پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا ہے، جس سے اب خاندان کی یہ وراثت جاری رہے گی۔
"یو جونگ کھے 2180" کی ریٹائرئٹ منٹ کا وقت قریب ہے ۔ مقامی حکومت کی مدد سے اب اس کی جگہ ایک نئی، چوڑے عرشے ، ہوا کے خلاف بہتر مزاحمت کی صلاحیت رکھنے والی اور پہلی بار ایئر کنڈیشننگ کی حامل جدید کشتی لے گی۔ اس نئی کشتی کی افتتاحی تقریب کے موقعے پر چن دایی نے ان کسانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اب آپ کے لیے مزید ٹوکریاں رکھنا پہلے سے زیادہ آسان ہوگا اور بزرگ مسافر زیادہ آرام دہ سفر کا لطف اٹھائیں گے ۔ خاص بات یہ کہ باسکٹ فیری کے کرائے میں اپ گریڈ کے باوجود تبدیلی نہیں آئے گی۔
کشتی کوئی بھی ہو ، چن دایی کی کشتی اس کے ارادوں سے منسلک ہے جو ان پہاڑوں کی محنت کو دریاوں کے پانی سے ہم آہنگ کرتی ہے اور اس سفر میں کسی کو بھی پیچھے یا تنہا نہیں رہنے دیتی۔



