مقامی وقت کے مطابق 11 جنوری کو، ڈنمارک، سویڈن اور جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک کے سیاسی رہنماؤں نے دوبارہ امریکی جانب سے ڈنمارک کے خوداختیار علاقے گرین لینڈ کے بارے میں حال ہی میں جاری کیے گئے "خطرناک بیانات" پر شدید تنقید کی۔
ڈنمارک کی پارلیمنٹ کی ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین لاسمس یلر نے 11 تاریخ کو ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے سے متعلق بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے "جدید تاریخ میں زمین کے حصول کا سب سے غیر قانونی دعویٰ" قرار دیا۔ سویڈن کے وزیر اعظم کرسٹرسن نے 11 تاریخ کو سالانہ سیکیورٹی کانفرنس میں کہا کہ سویڈن امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے معاملے میں کیے گئے حالیہ اقدامات اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اس کے رویے پر شدید تنقیدی مؤقف رکھتا ہے۔کرسٹرسن نے زور دیا کہ قواعد پر مبنی عالمی نظام کو دہائیوں کے سب سے مشکل خطرے کا سامنا ہے۔ جرمنی کے نائب چانسلر اور وزیر خزانہ لارز کلنگبائل نے 11 تاریخ کو G7 کے وزرائے خزانہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے واشنگٹن روانگی سے قبل کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ کرنا "مکمل طور پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کا معاملہ" ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خود مختاری اور علاقائی سالمیت جیسے بین الاقوامی قانون کے اصول تمام ممالک پر لاگو ہوتے ہیں، "جن میں امریکہ بھی شامل ہے"۔



