چینی وزارتِ تجارت کے مطابق سال 2025 میں چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان اشیائے تجارت کی درآمدات و برآمدات کا مجموعی حجم ایک کھرب چھ ارب تیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جو سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ شرحِ نمو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق چین اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی حجم نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک کھرب ڈالر کی حد عبور کی ہے اور مسلسل پانچ برسوں سے مثبت نمو برقرار ہے۔ اسی کے ساتھ چین پہلی بار وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے۔
مصنوعات کے تجارتی ڈھانچے میں بھی مثبت اور معیاری تبدیلی دیکھی گئی۔ چین کی جانب سے وسطی ایشیائی ممالک کو برآمدات کا حجم 71.2 ارب ڈالر رہا، جس میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران مکینیکل و برقی مصنوعات اور ہائی ٹیک اشیا کی برآمدات میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب وسطی ایشیا سے چین کی درآمدات 35.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 14 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں، جبکہ کیمیکل مصنوعات، فولاد اور زرعی اجناس سمیت دیگر مصنوعات کی اقسام مزید متنوع ہوئی ہیں۔
نئے تجارتی ماڈلز کی توسیع اور سرمایہ کاری و تجارت کے امتزاج نے بھی باہمی تعاون کو تقویت دی۔ چین اور وسطی ایشیا کے درمیان سرحد پار ای کامرس کی درآمدات و برآمدات میں تیز رفتار اضافہ جاری رہا، گودام سازی اور لاجسٹکس کے منصوبے آگے بڑھے، جبکہ سرحد پار ادائیگیوں کے شعبے میں تعاون کو ہمہ جہت فروغ ملا۔
اعلیٰ معیار کے ساتھ "بیلٹ اینڈ روڈ" کی مشترکہ تعمیر کا تعاون مسلسل گہرا اور ٹھوس ہو رہا ہے،جس کے نتیجے میں باہمی روابط، آلات سازی، سبز معدنیات اور جدید زراعت سمیت مختلف شعبوں میں بڑے منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔



